۳… جو اصول اخذ ہوں اور جن چیزوں کو اپنے عقائد واعمال کے لئے بنیاد قرار دیا جائے وہ سب کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲﷺ سے ماخوذ ہوں بالفاظ دیگر نہ تو کشید ہو اور نہ قرآن وسنت سے بے پرواہی ہو۔
۴… جو شخص یا گروہ قرآن وسنت میں بصیرت وتفقہ نہ رکھتا ہو اور اپنے رجحانات کی بناء پر رائیں قائم کر کے ان کو دین قرار دے وہ دین کا پیرو نہیں بلکہ اپنی آراء اور رجحانات کا پیرو ہے اور یہ گناہ ہے اور اس گناہ کے مقابلہ میں زنا، قتل نفس اور شراب نوشی وغیرہ دوسرے کبائر کی کیا حقیقت ہے؟
۵… ایمان لانے کے لئے تو مجمل علم اور دین کے موٹے موٹے اصول جاننے کے لئے قرآن کریم کی عام فہم تعلیم اور حدیث پر سرسری نگاہ کافی ہے۔
۶… لیکن ایسی عام فہم تعلیم اور سرسری نگاہ رکھنے والے کو دینی مسائل میں رائے قائم کرنے اور دینی طریق پر لوگوں کی رہنمائی کرنے کے لئے کافی سمجھنا غلطی ہے۔
۷… اور یہ غلطی بھی معمولی غلطی نہیں بلکہ بڑی خطرناک غلطی ہے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا ہے کہ یہ سب سے بڑا فسق اور تمام کبائر سے بڑھ کر کبیرہ ہے۔
ہم نے جناب مودودی صاحب کی عبارت میں جن امور کا تجزیہ کیا ہے ان میں کوئی ایسا امر نہیں جو ان کی اپنی عبارت میں صاف طور پر موجود ومذکور نہ ہو اور ہم نے اس سے بزور کشید کیا ہو۔ اب جناب مودودی صاحب سے ان کی اس عبارت میں پیش کردہ ان امور کو مدنظر رکھ کر علمی اور تحقیقی طور پر ان سے ہمارے چند سوالات اور مطالبات ہیں جن کا جواب خود مودودی صاحب سے مطلوب ہے۔
اوّل… جناب مودودی صاحب نسخ فی القرآن کا عنوان قائم کر کے چند سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہ بھی لکھتے ہیں کہ:
۱… قرآن میں نسخ دراصل تدریج فی الاحکام کی بنیاد پر ہے۔ یہ نسخ ابدی نہیں ہے، متعدد احکام منسوخہ ایسے ہیں کہ اگر معاشرے میں کبھی ہم کو پھر ان حالات سے سابقہ پیش آجائے جن میں وہ احکام دئیے گئے تھے تو انہی احکام پر عمل ہوگا۔ وہ منسوخ صرف اس صورت میں ہوتے ہیں جبکہ معاشرہ ان حالات سے گذر جائے اور بعد والے احکام کو نافذ کرنے کے حالات پیدا ہو جائیں۔ (رسائل ومسائل حصہ دوم ص۱۰۷، بار چہارم)