جو خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں پیش کیاگیا ہے اور اس ایمان اور اتباع کا تقاضا یہ ہے کہ ہم جو کچھ بھی اصول اخذ کریں اور اپنے عقائد واعمال کے لئے جن چیزوں کو بنیاد قرار دیں وہ سب کتاب اﷲ اور سنت رسول سے ماخوذ ہوں۔ لیکن جو شخص یا گروہ قرآن اور سنت میں بصیرت اور تفقہ نہ رکھتا ہو اور اپنے رجحانات کی بناء پر کچھ رائیں قائم کر کے ان کو دین قرار دے بیٹھے وہ حقیقت میں دین کا پیرو تو نہیں ہے اپنی آراء اور رجحانات کا پیرو ہے۔ اس گناہ کے مقابلے میں دوسرے کبائر کی کیا حقیقت ہے؟ اس سلسلہ میں یہ بات بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ دین پر ایمان لانے کے لئے جو مجمل علم کافی ہے اور دین کے موٹے موٹے اصول جاننے کے لئے قرآن کی عام فہم تعلیمات اور حدیث پر جو سرسری نظر کافی ہے اسے مسائل دینی میں رائے قائم کرنے اور دینی طریقوں پر لوگوں کی رہنمائی کرنے کے لئے کافی سمجھ لینا غلطی ہے اور اس غلطی کا نتیجہ وہ بڑی خطرناک غلطی ہے۔ جس کی طرف میں نے اوپر اشارہ کیا ہے۔‘‘
(تفہیمات حصہ دوم ص۱۹۱،۱۹۲، طبع چہارم)
اس عبارت میں جناب مودودی صاحب نے بہت سی کام کی باتیں کر ڈالی ہیں اور کسی کو ان سے اختلاف ہو تو ہو لیکن مودودی صاحب کو یقینا زرین اصول اور قواعد سے اختلاف نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ یہ اصول اور قواعد خود ان کے اپنے متعین کردہ اور تحریر کردہ ہیں اور خود اپنی ہی محققانہ رائے اور خیرخواہانہ قائم کردہ ضابطہ سے ان کو کیونکر اختلاف ہوسکتا ہے۔ اس عبارت میں جو جو باتیں جناب مودودی صاحب نے بیان کی ہیں ان کا اگر پورے طور پر تجزیہ کیا جائے تو بے ضرورت طوالت کا خوف ہے۔ اس لئے ہم تمام باتوں کا تجزیہ نہیں کرتے بلکہ صرف بعض پر ہی اکتفاء کرتے ہیں۔
۱… ایک مسلمان اگر کسی غلطی کا ارتکاب کر رہا ہو تو دوسرے مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اسے غلطی پر آگاہ کرے اور حق نصیحت ادا کرے اور غلطی کرنے والے کو بھی یہ برا نہیں منانا چاہئے۔
۲… علم کے بغیر دین کے مسائل میں رائیں قائم کرنا اور ان کو دین قرار دے کر انفرادی یا اجتماعی زندگی کے اصول بنالینا خود سب سے بڑا فسق اور تمام کبائر سے (جن میں قتل نفس، زنا، شراب نوشی، قذف، اکل مال یتیم، جادو اور جہاد میں میدان جنگ سے بھاگ جانا وغیرہ سرفہرست ہیں) بڑھ کر کبیرہ ہے۔