ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
¹یلی ویژÙ |
|
پرست طاقتوں کی طرف سے کوئی ایسی چیز سامنے آئے، جس سے اسلامی عقائد اور احکام و اقدار پر زَد پڑتی ہو اور اس کا مناسب جواب نہ دینے سے اسلام کی شبیہ بگڑنے یا مسلمانوں کے ناقابلِ تلافی نقصان کا اندیشہ ہو ، تو اس کے دفاع کے لیے ٹیلی ویژن کے کسی پروگرام پر آنے کی ضرورۃً گنجائش ہے۔ ۳- اسلامی ٹی- وی چینل (Islamic T.V Channel) قائم کرنے کو اگر چہ موجودہ دور کی ضرورت کہا جاتا ہے؛ لیکن مختلف پہلؤوں پر غور کرنے کے بعد یہ فقہی اجتماع اس نتیجے پر پہنچا کہ اولاً علیٰ حدہ اسلامی چینل قائم کرنا عملاً مشکل ترین امر ہے اور اگر ایسا چینل وجود میں آبھی جائے، تو اس کے ذریعے سے فوائد کے مقابلے میں نقصانات کہیں زیادہ ہیں ؛کیوں کہ اس طرح کے چینلوں کو بہانہ بناکر لوگ ٹیلی ویژن کے فحش پروگرموں تک بہ آسانی رسائی حاصل کرلیں گے اور دیگر باطل فرقوں کے چینلوں سے اس کا امتیاز بھی دشوار ہوگا ؛ نیز عام لوگوں کی دل چسپی کی چیزیں شامل کیے بغیر خالص اسلامی چینل کے ناظرین کی تعداد غیر معمولی حد تک کم ہوگی اور متوقع فوائد حاصل نہ ہو سکیں گے ۔ان وجوہ سے’’ اسلامی چینل (Islamic T.V Channel) قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ ۴- انٹرنیٹ اس دَور میں ایسا معلوماتی ذریعہ ہے، جس میں ہر طرح کے اچھے اور برے پروگرام پائے جاتے ہیں ،گو کہ آج زیادہ تر اس ذریعے کو ناجائز اور حرام چیزوں میں استعمال کیا جارہا ہے؛ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس کو اگر شرعی حدود میں رہ کر استعمال کیا جائے، تو منکرات و فواحش سے بچتے ہوئے اس سے عظیم تعلیمی ،تجارتی اور انتظامی وغیرہ فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں ۔ اس لیے یہ فقہی اجتماع انٹرنیٹ کے جائز حدود میں استعمال کو’’ جائز قرار دیتا ہے ‘‘اور اس کے