فارغ ہونے والے طلبہ کے لئے حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی چند اہم نصیحتیں
نیک صحبت کا اہتمام کیجئے اورکسی اللہ والے سے مربوط رہئے
مفکراسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ فارغ ہونے والے طلبہ کو الوداعی نصیحت کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں :
آپ کے سامنے میں وہ چند باتیں پیش کرتاہوں جن کی رہنمائی اور روشنی میں آپ اپنے سفر کا آغاز کرسکتے ہیں ۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی کے لئے ایک شخص کا انتخاب کرلیں ، یہ حقیقت ہے کہ چراغ سے چراغ جلتا ہے اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ کوئی بھی مخلص بندہ آپ کو کہیں مل جائے تو اس کو آپ اپنا رہنما مان کر اپنی زندگی کی نئی تعمیر شروع کریں ۔۔۔۔۔۔جہاں کہیں یہ بندۂ خدا آپ کو ملے اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیجئے اور کچھ دنوں سے اس کی ہر چیز کو اپنے اندر منتقل کرنے کی کوشش کیجئے ۔
(پاجا سراغ زندگی ص:۳۴،۳۵)
یہی چیزتھی جسکی وجہ سے حضرت ملّانظام الدینؒ بانی درس نظامیہ نے سید عبدالرزاق بانسویؒکا دامن پکڑا جو بالکل ہمارے بارہ بنکی اور لکھنؤ کے دیہات کی بولی بولتے تھے جیسے آوت ہے، جاوت ہے۔ (یعنی آتا ہے جاتا ہے) یہ ان کی زبان تھی مگر ملّا نظام الدین کا حال یہ ہے کہ’’ مناقب رزّاقیہ‘‘ میں دیکھتے چلے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو ان کے سامنے بالکل ہیچ سمجھ رہے ہیں اور آپ ہر دور میں اس کی مثال