دیکھیں گے ۔
تیرھویں صدی میں مولانا عبدالحی صاحبؒ جن کو شاہ عبدالعزیز صاحب خود شیخ الاسلام کا لقب دیتے ہیں ۔ اور مولانا اسماعیل شہیدؒ جن کو (شاہ صاحبؒ) حجۃ الاسلام کے لقب سے یادکرتے ہیں ،چنانچہ فرماتے ہیں کہ: ’’ شیخ الاسلام مولانا عبدالحی اور حجۃ الاسلام مولانا اسماعیل شہیدؒ اگر چہ یہ دونوں میرے عزیز ہیں اور مجھ سے چھوٹے ہیں ۔ مگر اظہار حق واجب ہے اس لیے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو وہ مقام عنایت فرمایا ہے کہ جو کمتر کسی کو حاصل ہے‘‘، نیز فرماتے ہیں کہ:’’ ان کو مجھ سے کم نہ سمجھو‘‘۔
تو ان لوگوں کو دیکھئے کہ سید احمد شہیدؒ سے رجوع ہوئے جو کہ اُمّی تو نہیں تھے مگر محض فارسی داں تھے اور جو کوئی پاس سے گذرتا اس سے پوچھتے، ارے بھائی! اس لفظ کے کیا معنی ہیں ذرا بتاتے جائیے، ان کا یہ علم تھا اور مولانا عبدالحیؒ سے تو انھوں نے پڑھا بھی تھا اس کے باوجود ان دونوں حضرات نے سید صاحب کی رکاب جو تھامی ہے تو مرتے دم تک نہیں چھوڑی، جب کوئی پوچھتا کہ آپ لوگوں نے سید صاحبؒ میں کیا بات دیکھی جس کی وجہ سے ان کی طرف رجوع کیا؟ حالانکہ وہ علم میں بھی آپ کے مقابل میں کوئی مقام نہیں رکھتے، تو فرماتے بھائی ہم کو نماز پڑھنی بھی نہ آتی تھی انھوں نے نماز پڑھنا سکھایا۔ روزہ رکھنا نہ آتا تھا انھوں نے روزہ رکھنا سکھایا، نیز فرمایا کہ میں یہ عرض کررہا تھا کہ جیسی اور بہت سی چیزیں ہیں یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی جگہ ایسی ہو جہاں پڑھے لکھوں کو بھی جاکر معلوم ہو کہ میں کچھ نہیں ہوں ، اگر خدا نخواستہ ایسی جگہیں ختم ہوگئیں اور ایسے اللہ کے بندے نہ رہے اگر صرف مدعیان علم رہ گئے اور ہم جیسے لوگ رہ گئے جن کے متعلق لوگ معلوم نہیں کیا کیا سمجھتے ہیں تو یہ بڑے خطرے کی بات ہے۔
( اصلاح واستفاد ہ سے کوئی مستغنی نہیں ص۴ تا ۱۳۔ تعمیر حیا ت اپریل ۱۹۹۹ء)