چار ہزار لوگ تو صرف ان کے استقبال کے لئے آئے تھے لیکن اس کے باوجود امام بخاریؒ کی شدید مخالفت ہوئی،اور ان کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا کہ اللہ کی پناہ، آپ کو ہر طرح ذلیل ورسوا کرنے اوربدنام کرنے کی کوشش کی گئی اور جب جب بھی اہل حق نے حق کااظہار کیاتواہل باطل نے اسکی مخالفت کی اور اہل حق کو بدنام اور ناکام کرنے کی کوشش کی۔
اہل حق کی مخالفت کس طرح ہوتی ہے
اور وہ مخالفت اس طرح ہوتی ہے کہ کسی بھی طریقہ سے ان کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ تو ایسے ویسے ہیں ،جب ایسے ویسے ہیں تو ان کی بات کا کیا اعتبار ،یہ سب اسی واسطے کیاجاتا ہے تاکہ لوگ ان سے بدگمان ہوجائیں لوگوں کا اعتقاد ان سے ہٹ جائے،اس وقت ان کی بات کا اثر بھی نہ ہوگا،اور کوئی ان کی طرف متوجہ بھی نہ ہوگا ،لوگ ان سے نفرت کریں گے دوربھاگیں گے، جھوٹ بات کو بھی اگر بار بار کہاجائے تو کچھ نہ کچھ تو اسکا اثر ہوتا ہی ہے،غلط بات کی جب تشہیر کی جائے گی تو کچھ نہ کچھ تو خیال اکثر لوگوں کے دل میں پیدا ہی ہونے لگتا ہے لیکن اس طرح کی سازش کرنے والوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔
اللہ والوں کو ستانے والوں کا انجام
بخارا کے حاکم نے امام بخاریؒ کے خلاف سازش کی اور اسکی وجہ صرف یہ ہوئی تھی کہ حاکم نے درخواست کی تھی میرے گھر پر آکر حدیث پڑھادیا کریں ،امام بخاریؒ اس پر تیار نہیں ہوئے بس اسی پر اس نے مخالفت شروع کردی،اور امام بخاریؒ کو ہر طرح سے بدنام کر نے کی کوشش کی،غلط قسم کے عقائدان کی طرف منسوب کیے اور ہمیشہ سے