اپنے کو جمہور اہل سنت کے مسلک کا پابند رکھئے اس سے کبھی تجاوز نہ کیجئے
حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ؒ فارغ ہونے والے طلبہ کو الوداعی نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :
(ایک نہایت ضروری اور اہم) بات جو بہت تجربہ کی ہے وہ یہ کہ میں نے بھی کتابیں پڑھی ہیں ، اسلام کے مذاہب اربعہ اور ان سے باہرنکل کر تقابلی مطالعہ کیا ہے، شاید کم ہی لوگوں نے اس طرح کا مطالعہ کیا ہو، ان تمام مطالعہ کے نچوڑ میں ایک گر کی بات بتاتا ہوں کہ جمہور اہل سنت کے مسلک سے کبھی نہ ہٹئے گااس کو لکھ لیجئے ،چاہے آپ کا دماغ کچھ بھی بتائے،آپ کی ذہنیت آپ کو کہیں بھی لے جائے ،کیسی ہی قوی دلیل پائیں جمہور کے مسلک سے نہ ہٹئے۔
یہ وہ بات ہے جس کو ہمارے اور آپ کے استاد مولانا سید سلیمان ندویؒ نے اپنے بعض شاگردوں سے کہا جیسا کہ مولانا اویس صاحب نقل کرتے تھے اور سید صاحب سے ان کے استاد مولانا شبلی نے کہی تھی۔
بعض لوگ چمک دمک والی تحریر پڑھ کر دھوکہ کھاجاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اور شہیدوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہیں علمائے سلف کا مذاق اڑاتے ہیں کہیں مفسرین ان کے تیر کا نشانہ بنتے ہیں ،لہٰذا مسلک جمہور سے اپنے کو وابستہ رکھئے اس کا بڑا فائدہ ہوگا ،اللہ کی خاص عنایت ہوگی اس کی نصرت اور برکت ہوگی اور حسن خاتمہ بھی ہوگا۔
(اپنے کو نیلام کی منڈی میں پیش نہ کیجئے ص:۲۰)