اللہ والوں کی خدمت میں حاضر ہوکر دل کی بیٹری چارج کرتے رہئے
(ایک ضروری)بات یہ کہ اپنی (اصلاح کی)طرف سے غافل نہ رہیں بلکہ اپنے دل کا ،اعمال کا، نفس کا محاسبہ کرتے رہیں ،خود اپنے ممتحن بن جائیں اور اس کو ٹٹولتے رہیں ، اس کے لئے میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچھے حقانی ربانی لوگوں کی خدمت میں حاضر ہوں جو بے غرض ہیں ،جن کے پاس بیٹھ کر خدا یاد آتا ہو،ان سے ملاقات کریں ،یا کسی دینی ماحول میں تھوڑا وقت گذاریں اگر یہیں رہیں گے (یعنی اپنے مقام پر ہی جمے بیٹھے رہیں گے اور اللہ والوں سے ربط نہ رکھیں گے اور ان کی خدمت میں حاضری نہ دیں گے) تو تعلق باللہ اور ایمانی کیفیات کا سرمایہ ختم ہوتا جائے گا جیسے کہ بیٹری برابر استعمال میں رہے تو اس کا مسالہ ختم ہوتا جائے گا اس کو نئے سیلس کی ضرورت ہوگی اس طرح سے اپنے دلوں کی بیٹری کو بھی ہمیشہ نئے سیل دیتے رہیں اور تھوڑے تھوڑے وقفے سے(اللہ والوں کی خدمت میں حاضری دیتے رہیں )۔
(خطبات علی میاں ۱۴۲ج۳)
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو لوگ کچھ لکھ پڑھ جاتے ہیں یا ان کو کچھ تصنیف وتالیف کا اتفاق ہوتا ہے اور ان کی طرف کچھ نگاہیں اٹھنے لگتی ہیں کہ ہم بھی کچھ جانتے بوجھتے ہیں تو پھر اب ان کو کچھ سننے کی اور کہیں جانے کی اور کسی سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت نہیں تو ان کا یہ خیال بالکل صحیح نہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی دور میں بھی اور کسی عمر میں بھی، گمنامی اور شہرت کی حالت میں بھی استفادہ سے بلکہ اصلاح سے مستغنی نہیں ہوتا ، ہمہ شما کا تو خیر ذکر کیا ہے، جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم جیسی صحبت حاصل تھی،