قابلِ قبول اور قابلِ تردید کی معرفت حاصل ہوجائے۔
تیسری صدی کے شروع هی سے اس علم میں متعدد تصانیف منظرِ عام پر آنے لگی تھیں اور دسویں صدی کی ابتداء تک ایک عظیم الشان ذخیرہ تیار ہوگیا؛ لیکن طلبه برادری میں اس بات کی ضرورت محسوس هورهی تھی کہ اصول حدیث کو به زبانِ اردو اجرائی شکل دی جائے جس سے فن كا سمجھنا اور اس كا استحضار سهل ترین هو، اور حقیقت بھی یہ ہے کہ فنون میں اجراء وتمرین کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے اور تبحر فی العلوم کا زینہ ہے، چوں کہ اجراء وتمرین کے بغیر محض قوانین وضوابط سے فن پائدار نہیں رہتا، بقول مفکرِ اسلام مولانا ابو الحسن علی میاں ندویؒ:
’’در اصل قواعد کی تعلیم کا فطری طریقہ یہ ہے کہ ان کو مجرد قواعد ومسائل کی صورت میں طلبہ کو صرف سمجھا اور رٹانہ دیا جائے؛ بلکہ جملوں اور عملی مثالوں کے ساتھ ان کو ذہن نشیں کیا جائے، اور طلبہ سے عملی طور پر ان کا اجراء کیا جائے، قواعد کو زبان سے الگ کرکے نظری طور پر سکھانا صرف متأخرین اہلِ عجم کی خصوصیت ہے، اہلِ زبان اس سے نا آشنا ہے‘‘۔ (مقدمہ معلم الانشاء اول)
بنا بریں اجرائی خلاء کو پُر کرنے کے لیے حضرت استاذ محترم مولانا الیاس صاحب دامت برکاتہم (استاذ حدیث وفقہ مدرسہ دعوۃ الایمان مانک پور ٹکولی، گجرات) كے ایماء پر بندہ نے ’’اجرائے اصولِ حدیث‘‘ نامی کتاب ترتیب دی هے جو اُصولِ محدثین كے طرز پر هے؛ هاں ! اصول حدیث كے تعلق سے اُصولِ احناف كچھ مختلف هیں جن كو بتوفیق الٰهی بنده نے تحت الاشراف مولانا اقبال صاحب ٹنكاروی دامت