عن محمد بن زید عن عبداللہ بن عمرؓ ’’فأکملوا العِدَّة‘‘.۱
(صحیح ابن خزیمة: ۱۹۰۹)
متابعت کا فائدہ: متابعت سے تقویت وتایید کا فائدہ حاصل ہوتا ہے؛ اور متابِع کے لیے اصل کے ہم رُتبہ ہونا ضروری نہیں ہے؛ بلکہ اصل سے کم درجہ کی حدیث بھی متابعت کی صلاحیت رکھتی ہے۔
متابعت کی شرط: یہ ہے کہ متابِع اور مُتابَع (اصل ) دونوں حدیثوں کا ایک صحابی سے مروی ہونا ضروری ہے۲۔
۷ شاہد:
وہ متنِ حدیث ہے جو فردِ نسبی کے لفظ اور معنی دونوں میں یا صرف معنی میں موافق ہو، اور دونوں کا صحابی علاحدہ ہو، جیسے:
شاھد فی اللفظ:
أخبرنا محمد بن عبداللہ بن یزید حدثنا سفیان عن عمرو بن دینار عن محمد بن حنین عن ابن عباسؓ
۱ متابعتِ تامہ میں امام شافعی کا متابع عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی ہے؛ کیوں کہ انھوں نے امام مالک سے اسی سند کے ساتھ بعینہٖ امام شافعی کی طرح ’’فأکملوا العدة‘‘ کے لفظ سے روایت کیا ہے۔ اور متابعتِ قاصرہ میں محمد بن زید عبد اللہ بن عمر سے اسی طرح روایت کر رہے ہیں جس طرح امام شافعی والی حدیث میں عبد اللہ بن دینار حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے تھے اور عبد اللہ بن دینار امام شافعی کے استاذ الاستاذ ہے؛ لہٰذا محمد بن زید کی موافقت امام شافعی کے لیے متابعتِ قاصرہ ہوگی۔
(تیسیر مصطلح الحدیث: ۱۴۳)
۲ اگر متابِع حدیث اصل حدیث سے لفظ ومعنیٰ میں موافق ہو تو اس کو ’’مثله‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے؛ اور اگر صرف معنیٰ میں موافق ہو لفظ میں موافق نہ ہو تو اس کو ’’نحوہ‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں ۔
(مقدمۃ شیخ عبدالحق:۵۸)