بسم اﷲ الرحمن الرحیم!
۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو قادیانی غیرمسلم اقلیت قرار پائے۔ آئین کی دفعہ ۲۰۸،۲۶۰ میں ترمیم ہوئی۔ چونکہ قادیانیوں نے خود کو غیر مسلم تسلیم کرنے سے عملاً انکار کر دیا تھا۔ اس لئے بھٹو صاحبؒ کے ہی دور حکومت میں رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کر کے شناختی کارڈ کے فارموں میں خانہ مذہب کا اضافہ کیاگیا۔ ہر وہ شخص جو اپنا مذہب اسلام لکھے، اس کے لئے شناختی کارڈ کے فارم میں ایک حلف نامہ شامل کیاگیا۔ یہ بھٹو صاحب کے دور حکومت میں ہوا۔ اس وقت کی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ذمہ دار رہنماؤں مولانا محمد یوسف بنوریؒ، مولانا مفتی محمودؒ، پروفیسر غفور احمد، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، چوہدری ظہور الٰہیؒ، مولانا عبدالحقؒ، مولانا تاج محمودؒ، مولانا عبید اﷲ انورؒ، نوابزادہ نصراﷲ خانؒ، مولانا عبدالستار خان نیازیؒ وغیرہم نے بھٹو حکومت سے مطالبہ کیا کہ شناختی کارڈ کے فارم تو رجسٹریشن دفاتر میں رہ جائیںگے۔ ضروری ہے کہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اضافہ کیا جائے۔ بھٹو صاحب نے فرمایا کہ پورے ملک کے شناختی کارڈ نئے سرے سے بنانے پر قومی خزانہ پر ناروا بوجھ ہوگا۔ تاہم آپ کا مطالبہ معقول ہے۔ مناسب وقت پر اس پر عمل درآمد کر لیا جائے۔ قادیانی سازش سے بھٹو صاحب اور مجلس عمل کے درمیان کشیدگی پیدا کر دی گئی۔ جس کے نتیجہ میں اس ترمیم پر قانون سازی نہ ہوسکی۔ اس کے بعد جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک آرڈیننس کے ذریعہ اس خلاء کو پر کیا اور پھر پاسپورٹ میں خانہ مذہب کا اضافہ کر دیا گیا۔ پاسپورٹ چونکہ شناختی کارڈ کی بنیاد پر بنتا ہے۔ اس لئے ایسے ممالک جہاں پر قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے یا حرمین شریفین، وہاں جانے کے لئے قادیانیوں نے خود کو مسلمان لکھوالیا، یا مغربی جرمنی سیاسی پناہ کے لئے لے جانے کا چکمہ دے کر مسلمانوں کو قادیانی لکھوایا جاتا رہا۔ اس قسم کے بیسیوں کیس ملک میں پکڑے گئے کہ قادیانی ایجنٹ مسلمانوں کو قادیانی ظاہر کر کے مغربی جرمنی اور کینیڈا وغیرہ لے جارہے تھے۔ اس سے ہزاروں مسلمانوں کو ارتداد کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ یہ وہ امور ہیں جن کے باعث جب پاکستان کی وزارت داخلہ نے نئے سرے سے شناختی کارڈ کمپیوٹر پر لانے کا فیصلہ کیا تو تمام مسلمانوں کی طرف سے مطالبہ کیاگیا کہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اضافہ کیا جائے۔ بالخصوص حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒصاحب، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، جنرل محمد حسین انصاری، قاضی حسین احمد، پروفیسر ساجد میر، مولانا علی غضنفر کراروی اور دوسرے قومی راہنماؤں کی طرف سے شدت سے یہ مطالبہ کیاگیا۔ اس سلسلہ میں متعدد بار صدر مملکت، وزیراعظم، وزیرداخلہ اور دوسرے ذمہ دار حضرات سے مختلف وفود نے ملاقاتین کیں۔