اس جلد میں احادیث کے الفاظ نهیں هے؛ بلکه احادیث میں وارد لوگوں کے نام، مکان، قرآن کی سورتیں وغیره مذکور هیں ۔
کلمات کی ترتیب:
حدیث سے کلمهٔ غریبه ومهمه کو اختیار کرنے کے بعد مندرجهٔ ذیل طریقه پر اس کو مرتب کرتے هیں ، اوّلاً: فعلِ مجرد ماضی معروف کے چوده صیغے علمِ صرف کی ترتیب پر ذکر کرتے هیں ، پھر اسی ترتیب پر مضارع کو ذکر کرتے هیں ، پھر فعلِ امر کے چھے صیغے، پھر اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کے چھ چھ صیغے اسی ترتیب پر ذکر کرتے هیں ، پھر فعلِ مزید فیه کو اسی ترتیبِ مذکوره پر ذکر کرتے هیں ۔
ثانیاً: اسمائے معانی، جیسے:صلوٰة وزکوٰة امر وغیره کا ذکر کرتے هیں ۔
ثالثاً: پھر دیگر مشتقات، جیسے: اسمِ صفت، اسمِ ظرف، اسمِ آله، افعل التفضیل وغیره کا تذکره کرتے هیں ۔
کلمهٔ غریبه یا کلمهٔ مهمه کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ اُس حدیث کا تھوڑا سا ٹکڑا بھی ذکر کرتے هیں جس میں یه کلمه هوتا هے، حدیث کا جزو ذکر کرنے کے بعد کتبِ تسعه میں سے جس نے اس حدیث کی تخریج کی هوتی هے اس کا رمز تحریر کرتے هیں ، اس کے بعد کتاب کا عنوان، جیسے: الصلوٰة لکھتے هیں ، اس کے بعد رقم الباب اور مسلم اور مؤطا کا رقم الحدیث تحریر کرتے هیں ، اور اگر مسندِ احمد کی روایت هوتی هے تو بڑے حروف میں جزو کا رقم اور چھوٹے حروف میں صفحه کا رقم ذکر کرتے هیں ۔ کبھی صفحه کے رقم پر دو نجم (ستاره) ڈالتے هیں ، اُس کا مطلب یه هوتا هے که یه کلمه اس