ایک جزیرہ نظر آیا وہاں سپرد لحد کیا۔ لاش مبارک جوں کی توں تھی۔ حضرت ابوایوب انصاری t نے اسی سال کی عمر میں قسطنطنیہ کے لئے جہاد میں شرکت فرمائی اور وفات پائی۔ وصیت کے مطابق دشمن کی سر زمین میں دفن کیا گیا۔
افضل عمل جہاد:
القرآن۔ سورہ توبہ آیت نمبر ۱۹،۲۰
ترجمہ: ’’کیا تم نے حاجیوں کو پانی دینا اور مسجد حرام کی خدمت کرنا اس کے برابر کر دیا جو اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرے یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک برابری کے نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ بے انصافوں (ظالموں) کو راہ نہیں دکھاتا ہے۔ جو لوگ ایمان لائے اللہ کی راہ میں ہجرت کی۔ اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کیا وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑے مرتبہ والے ہیں یہی لوگ مراد پانے والے (کامیاب) ہیں‘‘۔
حضرت علی t سے حضرت عباس t نے غزوہ بدر میں قید ہونے کے بعد کہا کہ ہم مسجد حرام کے متولی تھے، غلاموں کو آزاد کرتے تھے بیت اللہ کو غلاف چڑھاتے تھے، حاجیوں کو پانی پلاتے تھے‘‘ حضرت علی t نے کہا ’’میں مجاہد ہوں ایمان کے ساتھ‘‘ جب یہ گفتگو حضور پاک e کے پاس پہنچی تو یہ آیات نازل ہوئیں۔
(تفسیر الطبری ۶/۳۳۶)
مسجد تعمیر کرنا، اللہ کے لئے پانی کی سبیل لگانا یا نلکہ لگانا یا کنواں وقف کرنا، کھانا کھلانا، سب نیک اعمال ہیں لیکن سب اعمال میں سے اپنی جان و مال سے جہاد کرنا سب سے زیادہ افضل ہے اور زیادہ مرتبہ ہے۔
سچے مسلمان ہی اپنی جان و مال سے جہاد کرتے ہیں انہیں کے حصے بھلائیاں اور خوبیاں ہیں۔
عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ e اَفْضَلُ اَلْجِھَادِ مَنْ قَالَ کَلِمَہَ حَقِّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَابِرٍ۔
حضرت ابو سعید خدری t سے روایت ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا کہ ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا افضل الجہاد ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابودائود، ابن ماجہ)
کافر دشمنوں سے قتال کرنے میں اگرچہ شکست اور اپنی موت کا خطرہ بھی ہوتا ہے لیکن فتح اور کامیابی کی امید بھی ہوتی ہے۔ مگر ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے میں اپنی جان کا یا کم سے کم سزا کا خطرہ بھی ہوتا ہے غالباً اسی وجہ سے اس کو افضل الجہاد فرمایا گیا ہے۔
حدیث کا مفہوم:
حضرت ابو سعید خدری t سے روایت ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا دین میں جہاد فی سبیل اللہ ایسا عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت عظیم ہے اس عمل کرنے والے کو اللہ تعالیٰ جنت میں سو درجے بلند فرمائیں گے جن میں سے دو درجوں کے درمیان زمین و آسمان کا سا فاصلہ ہوگا۔ (صحیح مسلم)
جہاد فی سبیل اللہ کو آپ e نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا۔
حضرت ابوہریرہ t سے روایت ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا قسم اس پاک ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر یہ بات نہ ہوتی کہ بہت سے اہل ایمان کے دل اس پر راضی نہیں کہ وہ جہاد کے سفر میں میرے ساتھ نہ جائیں اور میرے پاس ان کیلئے سواریوں کا انتظام نہیں ہے (مجبوری) تو میں راہ خدا میں جہاد کیلئے جانے والی ہر