صاحبزادیاں اور صاحبزادے حضرت عبدالرحمن بن عوف t اسکے علاوہ بہت سے اصحاب کرام ] بزرگان دین کی قبریںہیں موجودہ قبرستان میں قبروں کے نشان نہیں ہیں۔ صرف چھوٹے بڑے پتھروں کو رکھ کر قبروں کی نشانی بنایا گیا ہے۔ جب حضرت عثمان بن مظعون t نے وفات پائی تو آپ e نے جنت البقیع کو قبرستان کے لئے پسند فرمایا۔ اس جگہ اپنے صحابی عثمان بن مظعون t کو دفنا کر سرہانے ایک بڑا پتھر خود اپنے دست مبارک سے اٹھا کر نشانی کے طور پر نصب فرمایا۔ اس جگہ غرقد (ببول) کے درخت ہوا کرتے تھے۔ اس لئے اس کو بقیع الغرقد بھی کہتے ہیں۔
جمعتہ المبارک کے دن زیارت کو جانا افضل ہے۔
جنت البقیع میں آپ e کو وحی کے ذریعے دنیا کے خزائن کی کنجیاں ہمیشہ کی زندگی کیلئے پیش کی گئیں یا جنت میں اعلیٰ درجات والا مقام چننے کا اختیار دیا۔ تو آپ e نے جنت میں اعلیٰ درجات کو پسند فرمایا۔ آپ e ان حضرات کو دفنانے سے پہلے ان کی قبروں میں لیٹے تھے۔
۱۔ فاطمہ بنت اسد r (عقیل بن جعفر t کی والدہ) ۲۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ r (ام المومنین)۔ ۳۔ اپنے صاحبزادے خدیجۃ الکبریٰ r کے لخت جگر حضرت قاسم t ۴۔ام رمان t (حضرت عائشہ r کی والدہ)۔۵۔حضرت عبداللہ المزفی t (ذوالبجادین، دو چادروں والے) جنت البقیع میں دس ہزار اولیاء کرام کے مزار ہیں۔
مساجد مدینہ منورہ:
مدینہ منورہ میں بہت سی مساجد میں چند مشہور مساجد کا ذکر کیا جاتا ہے۔
مسجد قباء:
جب حضور پاک e مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو سب سے پہلے وادی قبا ہیں ٹھہرے یہاں مسجد تعمیر فرمائی یہ جگہ ایک عورت لینہ کی تھی جو اس جگہ اپنا گدھا باندھا کرتی تھی۔ ان سے جگہ کی اجازت لیکر مسجد تعمیر کی۔ اس مسجد میں دو رکعت نفل عمرہ کی نیت سے ادا کرنے پر عمرہ کا اللہ تعالیٰ ثواب عطا کرتا ہے (حدیث) حضور پاک e اکثر ہر شنبہ کو یہاں تشریف لے جاتے تھے۔
تین افضل مساجد مسجد حرام، مسجد نبوی e مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کی نیت سے سفر کرنا جائز ہے جس کا بہت زیادہ اجر و ثواب ہے۔ ان کے بعد مسجد قباء افضل ہے باقی تمام مساجد برار ہیں۔ یہ مسجد مسجد نبوی e سے جنوب کی طرف مکہ معظمہ کے راستہ پر تقریباً سات آٹھ کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔ اس کاپہلاسنگ بنیاد حضور پاک e نے اپنے دست مبارک سے رکھا،دوسرا پتھر حضرت ابوبکر صدیق t تیسرا حضرت عثمان غنی t نے رکھا۔ آپ e نے نیزہ سے قبلہ کی سمت متعیں کی ۔ اس مسجد کو اب لائبریری کے طور پر زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ سڑک سے تقریباً دس فٹ اونچائی پر ہے مردوں اور خواتین کیلئے علیحدہ علیحدہ بڑے بڑے دروازے ہیں۔ پردے کا خاص انتظام ہے۔ مدینہ منورہ میں سب سے پہلی مسجد جو تعمیر کی گئی وہ یہی تھی۔
مسجد جمعہ:
اس مسجد کو گنبدوں والی مسجد بھی کہتے ہیں۔ یہ مسجد قباء کے راستہ میں شروع ہی میں واقع ہے۔ یہ پہلی مسجد ہے جس کو تعمیر کرکے آپ e نے پہلا جمعتہ المبارک پڑھایا۔