۳۔خاندان نبوت: ’’آپ e اور آل محمد e کیلئے زکوٰۃ (صدقات) حلال نہیں‘‘۔ (صحیح مسلم)
ہاں ہدیہ آپ e قبول فرماتے اور خوشی کا اظہار فرماتے۔
صدقات: ’’ہر مسلمان پرصدقہ لازم ہے۔ خواہ محنت کرکے کما کر صدقہ کرے محتاج کی مدد کرکے، زبان سے لوگوں کو بھلائی اور نیکی کیلئے کہہ کر کم از کم اپنے آپ کو شر سے روکے یعنی اس سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے یہ ایک طرح کا صدقہ ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم)
برکات: ’’صدقہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈا اور بری موت کو دفع کرتا ہے۔‘‘
(جامع ترمذی)
’’قیامت کے دن مومن پر اس کے صدقہ کا سایہ ہوگا۔‘‘ (مسند احمد)
’’صدقہ سے مال میں کمی نہیں آتی بلکہ اضافہ ہوتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم)
کوئی صاحب ایمان بندہ اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرے تو وہ اس کے حق میں صدقہ ہوگا اور وہ ثواب کا مستحق ہوگا۔
اہل قرابت پر صدقہ:
’’کسی اجنبی مسکین کو اللہ کیلئے کچھ دینا صدقہ ہے اور اپنے قریبی ضرورت مند عزیز کو صدقہ دینا اور صلہ رحمی کرنابڑی نیکی ہے‘‘۔ (ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)
حضرت عبداللہ بن مسعودt کی زوجہ حضرت زینب r نے حضور پاک e سے صلہ رحمی کا مسئلہ پوچھ کر اپنے مال سے اپنے شوہر ابن مسعود t کی مدد کی جس کا دوہرا ثواب (ایک صدقہ کا دوسرا صلہ رحمی کا) ملنے کا حضور پاک e نے ارشاد فرمایا۔ (مسلم، بخاری)
اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے بھوکے پیاسے جانوروں کو کھلانا پلانا بھی صدقہ ہے ایک بدچلن عورت کو اللہ تعالیٰ نے (ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے کی وجہ سے)بخش دیا ۔ (بخاری، مسلم)
حضرت ابو طلحہt نے اپنا باغ رسول اللہ e کی ہدایت پر اپنے خاص اقارب ابی بن کعب t حسان بن ثابت t شداد بن اوس t اور نبیط بن جابر t پر تقسیم کر دیا تھا۔
صدقہ کا احسن وقت:
صدقہ ادا کرنے کا بہترین وقت وہ ہے جب تم تندرست ہو، دولت کی چاہت ہو، دولت کو اپنے پاس رکھنے کی حرص ہو، تو صدقہ کا ثواب زیادہ ملتا ہے۔
چوتھا رکن اسلام
الصوم: روزہ
یٰٓااَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرہ ۱۸۳)
’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کئے گئے تھے۔ تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو‘‘۔