دلائل اور آیات الٰہیہ کی حیثیت دیتا ہے۔ سورہ آل عمران کی آیت۴۹ معجزات مسیح اور گوسالہ سامری کے زیرعنوان پیش کی جاچکی ہے۔ اس آیت شریفہ اور دوسری متعدد آیات میں ان معجزات کو نہ صرف آیت من ربکم کے زیر عنوان پیش کیاگیا ہے۔ بلکہ ان میں سے ہر معجزے کو باذن اﷲ سے مقید پیش کیاگیا ہے۔
’’فیکون طیرا باذن اﷲ وابری الاکمہ والابرص واحی الموتیٰ باذن اﷲ (آل عمران:۴۹)‘‘ {تو وہ جانور بن جاتے اور اڑتے بھی اﷲ کے اذن سے اور میں مادر زاد اندھے کو بینا کرتا ہوں۔ جذامی اور برص زدہ کو تندرست اور مردہ کو زندہ کرتا ہوں۔ اﷲ کے اذن سے۔}
لیکن مرزاغلام احمد قادیانی کا کہنا یہ ہے کہ: ’’ممکن ہے کہ آپ (یسوع مسیح) نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔ جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہوسکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ ظاہر ہوا ہو تو وہ آپ کا نہیں اس تالاب کا معجزہ تھا اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکروفریب کے اور کچھ نہ تھا۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص۷ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)
اگر کسی کے دل میں دین کا ابتدائی تصور بھی موجود ہو اور اسے اﷲ عالم الغیب والشہادۃ کے سامنے پیش ہونے کا ذرہ برابر بھی احساس ہو اور وہ کم ازکم نبوت کے اس پہلو ہی سے آگاہ ہوکر یہ عظیم منصب تقویٰ، سچائی، اخلاص نیت اور پاکیزگی کردار کا حقیقی منبع ہے اور وہ جانتا ہو کہ نبی تو ہوتا ہی ان صفات کا مظہراتم ہے۔ اس کی صحبت سے بہرہ ور افراد بھی ان صفات میں ضرب المثل اور قابل اسوہ ہوتے ہیں تو وہ اس بات پر حیران وششدر رہ جائے گا کہ مرزاغلام احمد قادیانی مدعی تو ہیں۔ اس کے کہ سیدنا محمد مصطفیٰﷺ کی مکہ معظمہ میں بعثت اولیٰ روحانیت کے پہلو سے پہلی رات کے چاند (ہلال) کی صورت میں تھی۔ لیکن (نار بدہنش) قادیان میں حضور کی دوسری بعثت جو میری (مرزاغلام احمد قادیانی کی) شکل میں ہوئی یہ روحانیت کی رو سے اتم اشد اور اکمل ہے۔
اس جسارت وادّٰعا کے ساتھ ان کے اخلاق کا یہ حال کہ اوّلاً تو وہ کہتے ہیں کہ: ’’مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا… خیال ہوسکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص۷ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)