جسارت شاید کسی بڑے سے بڑے کافر کو بھی نہ ہوئی ہوگی۔ بنابریں مرزاغلام احمد قادیانی اور قادیانیوں کو کافر قرار دئیے جانے کی نویں وجہ اﷲ رب العزت جل وعلاء کی جانب ایک ایسے عمل کا حکم صادر کرنے کی نسبت ہے جو خود مرزاغلام احمد قادیانی کے نزدیک دھوکہ اور کھیل تھا اور جس سے پیغمبر تک کی روحانیت شل ہوکر رہ گئی۔ ’’ومن اظلم ممن افتریٰ علی اﷲ کذبا وتعالیٰ اﷲ عن ذلک علواً کبیراً‘‘
اﷲ عزوجل کے حکم پر نفرت وبیزاری کا اظہار دسویں وجہ، مرزاغلام احمد قادیانی اور ان کی امت کو کافر قرار دیے جانے کی یہ ہے کہ انہوں نے یہ افتراء بھی کیا کہ اﷲتعالیٰ نے سیدنا مسیح ابن مریم اور سیدنا الیسع علیہما السلام کو مسمریزم کا حکم دیا اور اسی کے ساتھ ہی مرزاغلام احمد قادیانی نے یہ بھی کہا کہ میرے نزدیک مسمریزم قابل نفرت ہے اور میں اگر اس سے نفرت نہ کرتا تو مسیح ابن مریم سے کہیں زیادہ کامیاب ہوتا۔
مرزاغلام احمد قادیانی لکھتے ہیں: ’’اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خداتعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۳۰۹ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۸)
اور یہ اظہار نفرت وکراہت اس انکشاف کے بعد ہوا کہ: ’’یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن وحکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس ’’عمل الترب‘‘ میں کمال رکھتے تھے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۳۰۸ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۷)
اﷲ عزوجل جس کام کا حکم دے اس سے نفرت کا اظہار اور اسے مکروہ قرار دینا بارگاہ رب العزت میں کتنی کھلی گستاخی ہے؟ اس کا فیصلہ عام مسلمان ہی نہیں کفار بھی کر سکتے ہیں۔ شاید دنیا میں خدائے ذولجلال کے ماننے والے کفار میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں ہوگا کہ جو یہ جرأت کر سکے کہ ایک بات کو حکم الٰہی بھی مانے اور اس سے نفرت کا اظہار بھی کرے اور اسے مکروہ بھی کہے… اﷲتعالیٰ کے حکم کو مکروہ کہنے اور اسے قابل نفرت قرار دینے کے بعد بھی اگر کوئی شخص مسلمان رہ سکتا ہے تو پھر کسی بڑے سے بڑے کافر کو بھی کافر قرار دیے جانے کا کوئی جواز نہیں۔
نبی اﷲ کے معجزہ کو لہو ولعب اور دھوکہ قرار دینا
گیارہویں وجہ کفر یہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ان معجزات کو لہو ولعب قرار دیا۔ جنہیں قرآن مجید، سیدنا مسیح ابن مریم علیہ السلام کی صداقت کے