’’واسأل اﷲ ربی ومولای ان یجعل اعمالی کلہا خالصۃ لوجہہ ولا یجعل فیہا حظا لاحد سواہ ویا رب صل صلوۃ جلال وسلم سلام جمال علی حضرۃ حبیبک محمد واغشہ اللہم بنورک کما غشیتہ سحابۃ التجلّیات فبحقیقۃ الحقائق کلم مولاہ العظیم الذی اعادہ من کل سوء اللہم فرج کربی کما وعدت امن یجیب المضطر اذا دعاہ ویکشف السوء وعلی الہ واصحابہ واہل بیتہ وذریاتہ اجمعین! امین! آمین! آمین برحمتک یا ارحم الراحمین‘‘
عبدالرحیم اشرف
صفر المظفر ۱۳۹۷ھ، مطابق ۶؍فروری ۱۹۷۷ء
قادیانیوں کا کربناک تأثر
موضوع گفتگو یہ ہے کہ قادیانی غیرمسلم کیوں ہیں؟ لیکن براہ راست آغاز بحث کے بجائے ہم اس تأثر سے سلسلہ سخن شروع کرتے ہیں۔ جو بعض مخلص اور دردمند قادیانیوں نے متعدد بار ظاہر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم نمازیں پڑھتے ہیں۔ قرآن عزیز کی تلاوت کرتے ہیں۔ صدقات وخیرات دیتے ہیں۔ دین کی تبلیغ اور قرآن وحدیث کی اشاعت کو ہم وظیفہ زندگی بنائے ہوئے ہیں اور ہم اس کارعظیم کے لئے بیرون ملک سفر کرتے ہیں اور اپنی اولادوں کو تبلیغ دین کے لئے بھجواتے ہیں۔ لیکن ان تمام اعمال واقدامات کے باوجود ہمیںکافر کہا جارہا ہے۔ ہمیں ملت اسلامیہ سے خارج قرار دیا جارہا ہے۔ ہم سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ہم اپنے قلم سے اپنے آپ کو غیرمسلم لکھیں۔ اس سے ہمارے جذبات کا جو خون ہوتا ہے۔ ہمارے دل کو جو ٹھیس پہنچتی ہے اور ہمیں اس پر جو مجبور کیا جارہا ہے کہ ہم اپنا رشتہ سرور عالمﷺ سے توڑ ڈالیں تو آخر اس بے رحمی کو کیوں روا رکھا جارہا ہے؟ اور ہمارے جذبات کا کیوں لحاظ نہیں کیا جارہا ہے؟ خداوند جل وعلا شاہد ہے کہ بعض حضرات کی اس قسم کی دل سوزی سے ہمارا دل پسیج جاتا ہے اور ہم ان سے ہمدردی پر اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں اور ہمیں ان کی اس قلبی اور ذہنی کیفیت پر ترس آتا ہے۔ مگر جب ہم اپنے اس تأثر کو اسلامی شریعت کے ترازوئے عدل میں تولتے اور دینی غیرت وحمیت کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں تو ہم اپنے مسلمان ہونے کا اہم ترین تقاضا سمجھتے ہیں کہ ان بچھڑے بھائیوں کو یہ سمجھائیں کہ آپ نے جو راستہ اختیار کیا ہے۔ فی الواقعہ یہ کفر وارتداد کی وادیٔ ہلاکت ہی تک پہنچانے والا راستہ ہے اور آپ کے نیک جذبات کا انجام بعینہ وہی سامنے آنے