۶…
اس عمل کا نہایت برا خاصہ یہ ہے کہ اس کا عامل روحانی تاثیر سے محروم ہو جاتا ہے اور روحانی بیماریوں کو دور کرنے کے بارے میں بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے اور مرزاغلام احمد قادیانی کے نزدیک یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل سے دور کرتے رہے۔ مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامت کو مؤثر بنانے میں قریباً قریباً ناکام رہے۔
ان تصریحات میں مرزاغلام احمد قادیانی نے توہین مسیح کے علاوہ حسب ذیل مزید وجوہ کفر کا ارتکاب کیا ہے۔
اﷲ عزوجل پر شعبدہ بازی اور دھوکہ دہی کے حکم صادر کرنے کا افترائ، مرزاغلام احمد قادیانی نے اوّلا مسیح علیہ السلام کو عمل الترب یعنی مسمریزم کا عامل قرار دیا۔ ثانیاً یہ صراحت کی کہ یہ عمل دراصل اسی قسم کا کھیل اور شعبدہ تھا۔ جس طرح سامری نے بچھڑا بنا کر بنی اسرائیل کے سامنے پیش کیا تھا اور مزید یہ کہ یہ عمل دھوکہ اور کھیل تھا۔
ان تصریحات کے بعد وہ کہتے ہیں کہ اﷲ ذوالجلال نے اپنے دو انبیاء سیدنا مسیح ابن مریم اور سیدنا الیسع علیہما السلام کو صریح طور پر یہ حکم دیا کہ وہ اس عمل کو اختیار کریں۔ چنانچہ حضرت الیسع اس عمل میں اوّل نمبر پر کامیاب رہے اور دوسرے درجے میں حضرت مسیح۔
اسی پر بس نہیں، مرزاغلام احمد قادیانی کی تحقیق یا ان کے ایمانی واعتقادی تصور کے مطابق اس عمل سے ان انبیاء بالخصوص مسیح ابن مریم علیہ السلام کی روحانی تاثیر، قریب قریب ختم ہوکر رہ گئی اور وہ اگرچہ بعض جسمانی بیماریوں کو شعبدہ بازی کی حد تک دور کرنے میں تو کامیاب ہوگئے۔ مگر لوگوں کی روحانی اصلاح میں وہ تقریباً ناکام ثابت ہوئے۔
دینیات سے ادنیٰ قسم کا تعلق رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ جو لوگ کسی دین پر اعتماد رکھتے اور کسی سلسلہ نبوت سے متعلق ہیں۔ وہ خواہ کتنے بڑے کفریات کے مرتکب ہوں۔ انہیں یہ جرأت نہ ہوگی کہ وہ بلا ابہام یہ کہہ دیں کہ اﷲ رب العزت نے اپنے کسی منتخب پیغمبر کو دھوکے بازی، شعبدہ اور کھیل تماشے کو معجزات کی صورت میں پیش کرنے کا حکم دیا اور حدیہ کہ پیغمبران عظام تک کو ایسے لغو اعمال کا حکم دیا۔ جو ان کے منصب رسالت… تزکیہ نفوس… ہی کی نفی کے مترادف تھے اور یہ پیغمبر اس دھوکے بازی کو معمولی بنانے کے باعث روحانی تاثیر ہی سے محروم ہوگئے۔
اﷲ رب العزت پر اس قسم کے افتراء اور ان کی شان اقدس میں اس انداز کی گستاخی کی