ہوچکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن وحکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے۔ گوالیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے… اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خداتعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا… حضرت مسیح نے بھی اس عمل جسمانی کو یہودیوں کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جو ان کی فطرت میں مرکوز تھے۔ باذن وحکم الٰہی اختیار کیا تھا۔ ورنہ دراصل مسیح کو بھی یہ عمل پسند نہ تھا۔ واضح ہو کہ اس عمل جسمانی کا ایک نہایت برا خاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اور جسمانی مرضوں کے رفع دفع کرنے کے لئے اپنی دلی ودماغی طاقتوں کو خرچ کرتا ہے۔ وہ اپنی روحانی تأتیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں۔ بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا جو اصل مقصد ہے اس کے ہاتھ سے بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل کے ذریعے اچھا کرتے رہے۔ مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کاروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام رہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۳۰۵ تا۳۱۱ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۵تا۲۵۸)
کیا کہا مرزاغلام احمد قادیانی نے؟ یہی نا کہ:
۱…
عمل الترب جسے آج کی اصطلاح میں مسمریزم کہتے ہیں۔ اولیاء اﷲ اور اہل سلوک میں سے کامل حضرات اس مسمریزم سے پرہیز کرتے رہے ہیں۔
۲…
ہاں وہ لوگ جو ولایت کا ثبوت بنانے (اس بنانے کے مصنوعی پن اور دھوکہ کے مترادف لفظ پر غور کیجئے) یا کسی اور نیت سے اس میں مبتلا ہوگئے ہیں وہ اس مسمریزم سے اجتناب نہیں کرتے۔
۳…
مگر اس فعل اور فن کے قابل نفرت ہونے کے باوجود یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم نے اﷲ عزوجل کے اذن وحکم سے اس عمل کو شروع کیا۔
۴…
یہی نہیں بلکہ حضرت الیسع بھی حکم الٰہی سے عمل الترب کے عامل تھے اور حضرت مسیح سے بھی زیادہ کامل درجے کے عامل تھے۔
۵…
مگر میں یعنی مرزاغلام احمد قادیانی اذن وحکم الٰہی کے مطابق ان دونوں پیغمبروں کے اس عمل کو شروع کرنے کے باوجود اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت سمجھتا ہوں۔