جسارت ملاحظہ ہو۔ قرآن مجید ان واقعات کو ’’آیۃ من ربکم‘‘ تمہارے رب کی طرف سے نشانی کہتا ہے اور مرزاغلام احمد قادیانی کے نزدیک یہ سب کچھ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا۔ مزید برآں مرزاغلام احمد قادیانی کے ذہن کی عکاسی کا صحیح مظہر یہ کہ ان کے نزدیک سیدنا مسیح علیہ السلام کے یہ معجزات اور آیات الٰہیہ وہی حیثیت رکھتی ہیں جو مردود بارگاہ قدس ملعون سامری کے گوسالہ کی تھی۔ جس طرح سامری نے گوسالہ کے ذریعہ، اپنی قوم کو گمراہ کیا اور وہ اﷲ عزوجل کے عذاب کا مستحق ٹھہرا۔ مرزاغلام احمد قادیانی کے مذہب کے مطابق یہی حیثیت سیدنا مسیح علیہ السلام کے ان معجزات کی ہے۔
تیسرا پہلو مرزاغلام احمد قادیانی کے ایمان کی حقیقت کا یہ کہ وہ مسیح علیہ السلام کے اس معجزہ کو عمل الترب کہتے ہیں اور سلسلۂ گفتگو کے آخری میں انہوں نے کہا ہے کہ: ’’فتدبر فانہ نکتۃ جلیلۃ وما یلقّٰہا الا ذوحظ عظیم کہ تم غور وتدبر سے کام لو۔ یہ اہم اور جلیل الشان نکتہ ہے جو صرف انہیں ہی عطا ہوتا ہے۔ جو عظیم سعادت سے نوازے گئے ہوں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۳۲۲ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۶۳)
مرزاغلام احمد قادیانی نے یہ جملہ لکھ کر نہ صرف اس امر کا اعتراف کیا کہ میں نے مسیح علیہ السلام کے معجزات کو لہو ولعب اور عمل الترب قرار دیا ہے۔ بلکہ انہوں نے یہ اظہار بھی کیا کہ مسیح ابن مریم کے معجزات کی یہ حقیقت جو میں نے بیان کی ہے۔ یہ بڑے معرکے اور معرفت کی بات تھی۔ جو مجھے سوجھی یا سمجھائی گئی ہے اور ایسے اہم اور جلیل الشان نکتے انہی لوگوں کو سمجھائے جاتے ہیں جو بارگاہ رب العزت میں مقبول، معزز اور صاحب سعادت ہوں۔ اب دیکھنا ہے کہ یہ عمل الترب ہے کیا؟ مرزاغلام احمد قادیانی ہی کی زبانی سنئے۔ کہتے ہیں: ’’یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز (واضح رہے مرزاغلام احمد قادیانی ان کاموں کو اعجاز تسلیم کر کے انہیں عمل الترب کہتے ہیں) عمل الترب یعنی مسمریزمی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔ کیونکہ عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں۔ ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنے روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کے موافق کر دکھاتے ہیں… اولیاء اور اہل سلوک کی تواریخ اور سوانح پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کاملین ایسے عملوں سے پرہیز کرتے رہے ہیں۔ مگر بعض لوگ اپنی ولایت کا ثبوت بنانے کی غرض سے یا کسی اور نیت سے ان مشغلوں میں مبتلا ہوگئے تھے اور اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت