دامن تھے یا وہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کو نبی تو کجا ایک عام اچھا بااصول اور بااخلاق انسان بھی نہیں مانتے تھے اور پھر یا یہ کہ وہ مسیح دشمنی اور اپنے فروتروپست مقام سے اس حد تک متأثر ومنفعل تھے کہ وہ اس مقام کو قابل قبول بنانے کے لئے خدا کے ایک عظیم پیغمبر کو اپنے جیسا ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔
وجہ کوئی بھی ہو۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے کھلے بندوں کسی ’’یسوع‘‘ کا نہیں، عیسیٰ علیہ السلام کا نام لے کر ان کی شدید ترین توہین کا ارتکاب کیا ہے۔
معجزات مسیح اور گوسالہ سامری
قرآن مجید سیدنا مسیح علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے: ’’انی قد جئتکم بآیۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کھیئۃ الطیرفا نفخ فیہ فیکون طیراً باذن اﷲ وابریٔ الاکمہ والابرص واحی الموتیٰ باذن اﷲ وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم ان فی ذلک لآیۃ لکم ان کنتم مؤمنین (آل عمران:۴۹)‘‘ {میں تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے نشانی لایا ہوں۔ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی صورت بناتا ہوں۔ پھر اس میں روح پھونکتا ہوں تو وہ اﷲ کے حکم سے اڑتا ہو اجانور ہوجاتا ہے۔ میں مادر زاد اندھے اور مجذوم اور مبروص کو اﷲ کے اذن سے ان بیماریوں سے نجات دلاتا ہوں اور تم جو کچھ اپنے گھروں میں کھاتے اور ذخیرہ کرتے ہو۔ اس کی تمہیں اطلاع دیتا ہوں۔ اگر تم مؤمن ہو تو ان امور میں تمہارے لئے نشانیاں موجود ہیں (کہ میں اس اﷲ کی جانب سے آیا ہوں۔ جس کے اذن وحکم سے یہ تمام کام انجام دیتا ہوں)}
یہ تو تھی قرآن عزیز کی صراحت، سیدنا مسیح ابن مریم علیہ السلام کے معجزات کے سلسلے میں، مگر آئیے۔ دیکھئے مرزاغلام احمد قادیانی ان اعجازی کاموں کے بارے میں کیا کہتے ہیں: ’’یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنادیتا تھا۔ بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہوگیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا۔ جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہرحال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری کا گوسالہ: فتد برفانہ نکتۃ جلیلۃ وما یلقاہا الا ذوحظ عظیم‘‘
(ازالہ اوہام ص۳۲۲ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۶۳)