ہے؟ مرزاغلام احمد قادیانی لکھتے ہیں: ’’یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں پر بباعث ان کے پوشیدہ گناہ کے یہ ابتلاء آیا جن راہوں سے وہ اپنے موعود نبیوں کا انتظار کرتے رہے۔ ان راہوں سے وہ نبی نہیں آئے۔ بلکہ چور کی طرح کسی اور راہ سے آگئے۔‘‘
(نزول المسیح ص۳۶، خزائن ج۱۸ ص۴۱۳) اگر توہین انبیاء کے بارے میں صرف یہی حوالہ پیش کر کے مرزاغلام احمد قادیانی پر کفر کا فتویٰ صادر کردیا جاتا تو تنہا یہی حوالہ کافی تھا۔ مگر یہاں تو یہودیت اپنی تمام تر قباحتوں اور رذالتوں کے ساتھ عنفوان شباب پر ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے اس عنوان کے شروع میں عرض کیا ہم توہین انبیاء کے موضوع کو سیدنا مسیح ابن مریم کی ذات تک محدود رکھتے ہیں کہ یہاں تو وہ (مرزاقادیانی) سراپا یہودیت کے ترجمان اور عکاس تھے۔ مگر سابقہ وضاحت کے مطابق ہم اس عنوان کے تحت بھی ان کی صرف انہی چند تحریروں پر اکتفا کریں گے۔ جن میں مرزاغلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا حضرت مسیح ابن مریم کی جانب انتہائی فحش اور رذیل اعمال کی نسبت کی ہے یا پھر ان تحریروں میں سے چند ایک جن میں مرزاقادیانی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان میں جوالزامات حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر لگائے گئے ہیں۔ قرآن مجید بھی ان الزامات کی تصدیق کرتا ہے۔ نعوذ باﷲ من ذالک!
سیدنا مسیح ابن مریم علیہ السلام کے بارے میں مرزاغلام احمد قادیانی کہتے ہیں: ’’تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا… انجیر کے درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اس پر بددعا کی اور دوسروں کو دعا کرنا سکھلایا اور دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو۔ مگر خود اس قدر بدزبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں اور برے برے ان کے نام رکھے۔ اخلاقی معلم کا فرض یہ ہے کہ پہلے اخلاق کریمہ دکھلادے۔ پس کیا ایسی ناقص تعلیم جس پر انہوں نے آپ بھی عمل نہ کیا۔ خداتعالیٰ کی طرف سے ہوسکتی ہے۔‘‘ (چشمہ مسیحی ص۱۱، خزائن ج۲۰ ص۳۴۶)
خداتعالیٰ کے ایک اولوالعزم نبی پر یہ تہمت کہ انہوں نے بنی اسرائیل کی اصلاح کے لئے جو اخلاقی تعلیم پیش کی تھی۔ خود انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا اور کہ وہ قدم قدم پر بدزبانی کے مرتکب ہوتے تھے اور انہوں نے ایسا رویہ اختیار کیا جو ایک اخلاقی معلم کے منصب ومقام سے گرا ہوا تھا۔ اس بات کا ثبوت ہے کہ یا تو مرزاغلام احمد قادیانی نبوت کے ابتدائی تصور ہی سے تہی