… آپ ہدایت فرماتے ہیں۔ دو آدمیوں (مرزاقادیانی وپیرمہر علی شاہ صاحبؒ) پر رائے دینے کا آپ کو حق نہ تھا۔ الیٰ آخرہ!
پس جواب میں عرض ہے کہ میری اس قدر حسن عقیدت مذکورہ بالا دونوں بزرگوں میں سے کسی ایک پر بھی نہیں ہے کہ اگر ایک کو غوث یا قطب وقت قرار دوں تو دوسرے کو نبی یا رسول تسلیم کر کے ہر وقت ان کے سامنے مراقبہ میں پڑا رہوں۔ بلکہ اگر ایک کو جید عالم، قاضی زمانہ، عارف باﷲ اور نیک بخت مسلمان مانتا ہوں تو دوسرے (قادیانی) کو ایک منشی، پنجابی، اردو نویس جانتا ہوں اور دنیا کا یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ جب دو پہلوان ایک دوسرے کے بالمقابل میدان جنگ میں آنا چاہتے ہیں تو ان کی فتح وشکست کا فیصلہ پبلک پر ہوتا ہے۔ کوئی نیا رسالہ یا کتاب عام اس سے کہ دینی ہو یا دنیوی۔ کوئی نیا خیال، کوئی تازہ ایجاد، اگر کسی چھاپہ خانہ، کسی دل ودماغ وکارخانہ وغیرہ سے نکلتی ہے تو گویا وہ ایک طرح سے اپنے تئیں پبلک کے حوالہ کر دیتی ہے کہ اہل الرائے میرے حسن وقبح پر رائے زنی کریں اور اس کی صحت وسقم پر لکھیں۔
سو جب مرزاقادیانی نے اپنے تئیں نہ صرف پبلک کے سامنے پیش ہی کیا۔ بلکہ ہر ایک فرقہ اور جماعت کو عام اس سے کہ وہ مسلمان ہوں یا ہندو، عیسائی ہوں کہ برہموں، سکھ ہوں یا آریہ، نہایت سختی اور شدت سے کوسا اور ہر ایک کو بلایا کہ میری ادعائی نبوت پر اگر ایمان نہ لاؤ گے تو تم دوزخ کا ایندھن ہو! اور اپنے مسیح موعود ہونے کے ثبوت میں ناخنوں تک زور لگایا تو احباب اہل الرائے نے بذریعہ اخبارات، اشتہارات، رسالہ جات اور وعظ وتذکیر اس کے دعاوی کے بطلان میں رائے زنیاں کیں۔ جن کی کوئی حدونہایت نہیں ہے۔ پھر اگر بندہ نے بھی اس قسم کے بے غرضانہ رائے پبلک کے سامنے الحاد اور ارتداد کے فرزندوں (فرزند کا لفظ میں نے ’’ایڈیٹر الحکم‘‘ سے سیکھا ہے) کے فریب کی قلعی کھولنے اور راست باز صالح کی حقانیت ظاہر کرنے کے لئے پیش کی تو معلوم نہیں کہ بعض احباب کو کیوں مرچیں لگی ہیں اور کون سا قبلہ ٹیڑھا ہوگیا ہے۔ اگر کسی کو اپنی ذات، اپنی تصانیف، اپنی ایجاد کی ہوئی چیز یا اپنی ادعائی اور جھوٹی پیغمبری کی شاہ زوری دکھلانا منظور نہیں ہے تو اس کو آپ ہدایت کریں کہ جہاں تک اس سے ممکن ہو۔ پبلک سے اس کو پوشیدہ رکھے۔
۲… آپ فرماتے ہیں کہ عام مسلمان ذرہ ذرہ سے فروعی اختلاف پر قومی یا مذہبی رشتہ کو خیرباد کہتے ہیں۔ الیٰ آخرہ!