حضرت فخر الانبیائﷺ کا فقر دنیا سے پوشیدہ نہیں ۔ پیر صاحبؒ کی مالی طاقت کا حال تو مجھے مطلقاً معلوم نہیں۔ نہ ان کی ذات والاصفات سے میرا تعارف ہے۔ لیکن حضرت خواجہ مولوی شمس الدین علیہ الرحمۃ کو جن کی وساطت سے پیر صاحبؒ روحانی عزت سے بازیاب ہوئے ہیں۔ میں نے تو یہ خود دیکھا ہوا تھا کہ مولوی صاحب موصوف کی مالی حالت بالکل کمزور تھی۔ حضرت خواجہ سلیمان صاحب تونسویؒ کا ملفوظ ملاحظہ ہو۔ درویشوں کا خرچہ بڑی تنگی سے چلا کرتا تھا۔ آج کل سونا اور قیمتی پتھر وہاں نظر آتے ہیں اور روپیہ دریا کی طرح موجیں مارتا ہے۔ بڑے متمولوں کا دام فریب میں آجانا شاید آپ اسے زریں مرغیوں کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں۔ یہ سراسر حسد اور کینہ ہے۔ یہ کوئی نرالی بات نہیں۔ بڑے بڑے اغنیاء جسے اﷲ اپنے رحم سے ہدایت کرتا ہے۔ صراط مستقیم میں داخل ہوئے ہیں۔ حضرت فخرالموداتﷺ کی فقروفاقہ کشی اہل علم سے مخفی نہیں۔ اصحابی جو فوراً نور ہدایت سے بہرہ ور ہوئے بڑے مالدار تھے۔ اب رہا یہ کہ پیر صاحب کی طرف سے جس قدر شرائط میں ترمیم کی گئی ہے۔ وہ عین موقعہ اور محل پر تھی اور قادیانی کا یہ عذر کہ کثرت اجتماع میں فساد کا ہوجانا ممکن ہے۔ کچھ تھوڑا بہت انتظام امن قائم رکھنے کے واسطے ضروری ہونا چاہئے تو صرف اتنا کہنے سے بزعم حضرت مبصر صاحب وہ تمام بازی ہارگئے۔ خیر ہمارا اس میںکیا ہار گئے یا جیت گئے۔ جس کا فیصلہ ناظرین اخبار پر ہے۔ صرف اتنا لکھنے کے بغیر میں رک نہیں سکتا اور زیادہ لکھنے کو اخلاقی جرم کا ارتکاب سمجھتا ہوں۔ جو لکھتا ہوں اور اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں۔ وہ کیا یہ کہ ’’انا الحق‘‘ کہنے والوں نے قرب الٰہی کے اعلیٰ مدارج کو پالیا اور ’’انا المسیح‘‘ یا مماثلت کے مدعی نے دجالی اعزاز حاصل کیا۔ اے تعصب تیراستیاناس جائے۔ تو نے ہماری طبیعتوں کو پریشان اور دلوں کو نور ایمان سے خالی کر دیا ہے۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ!
میں ہوں آپ کا تابعدار عاصی احمد یار عاجگر عفی عنہ (قادیانی) از لیہعاجگر صاحب کا شکریہ
بندہ نے ۱۵؍اکتوبر ۱۹۰۰ء کی اشاعت میں دوستوں کی مجبوری پر اپنے چند خیالات راست راست اور بے کم وکاست بہ عنوان مرزاقادیانی اور پیر مہر علی شاہ صاحبؒ ظاہر کئے تھے۔ جس پر مندرجہ عنوان بزرگ کسی قدر آشفتہ اور کشیدہ خاطر ہوگئے ہیں اور براہ غائبانہ شفقت ہم کو چند نصائح فرماتے ہیں۔ ہم سب سے اوّل اپنے اس غائبانہ دوست اور ناصح شفیق کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ گو کہ ہم ان کی قیمتی اور ارجمند نصائح کی تعمیل سے بوجوہات چند درچند قاصر ہیں۔