چلاّتا اور حق کی تلقین کرتا رہا۔ مگر قوم نے اس کی ایک نہ سنی۔ اگرچہ عذاب الٰہی سے معذب کئے گئے۔ یہاں قیاس باور کرتا ہے کہ تعصب نے اس مقہور قوم کو یہ یقین نہ دلانے دیا کہ یہ عذاب مرسل من اﷲ کی دعا کا نتیجہ ہے۔ بلکہ انہوں نے طوفان کا واقعہ ایک اتفاقیہ واقعہ سمجھا اور اپنے عادات واطوار کو حق، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں فرعون نے مرتے دم تک موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کو تسلیم نہ کیا۔ نہ سراً نہ جہراً۔ اسی تعصب اور ہمہ دانی نے اس کو جہنم میں داخل کر دیا۔ یہودیوں کے نزدیک ’’کتاب مقدس‘‘ کے استدلال سے مسیح ابن مریم جھوٹا نبی ہے۔ جو مصلوب ہوا۔ آسمان سے آنے والے نبی کا انتظار کیا۔ کیا یہ تعصب نہیں عرب کا نبی عیسائیوں کے زعم میں نعوذ باﷲ گنہگار ہے۔ کیا وہ کہتے ہیں کہ ہم جھوٹا اتہام تمہارے رسول پر قائم کرتے ہیں۔ نہیں وہ فخریہ کہتے ہیں اور بالکل سچ کہنے کے مدعی ہیں۔
حضرت اصل میںیہ بات ہے کہ تقلید اور تعصب کی بیجا قید نے ہماری فطرتوں کو ایسا ناپاک اور نابینا کر دیا ہے کہ ہم کبھی بھی صراط مستقیم کو نہ پائیں گے۔ جب تک اپنے سلیم عقل سے کام نہ لیں گے۔ مسلمانوں کے گھر پیدا ہونے سے مسلمان کہلائے۔ سچ یوں ہے کہ اگر ہم جیسی طبیعتیں نبی عربیﷺ کا زمانہ پاتیں تو شاید ہی نبوت کا اقرار ہوتا۔ سو یہی بات ہے کہ ربانی قوانین اور اس کے استعارات کی عدم تفہم سے بہتوں نے دھوکہ کھایا اور اب بھی کھارہے ہیں۔ غرضیکہ دنیا کی عموم طبیعتوں کا اقتضاء حق تعالیٰ نے کسی خاص مصلحت پر جس کو وہ خود اچھا جانتا ہے۔ مختلف تجویز کیا ہے۔ ناراض نہ ہوں۔ آپ کو بہت مناسب تھا کہ سہم سہم کر لکھتے اور بڑے تفکر کے ساتھ سوچتے تو ضرور نتیجہ پر پہنچ جاتے۔ مولوی محمد حسین صاحب پر آپ نے بے وقت ناراضگی کا اظہار کیا۔ مولوی صاحب کے اس ریویو کے مقابلہ میں جس کو وہ بڑے انصاف کے ساتھ یا بے احتیاطی سے اپنے ’’اشاعت السنہ‘‘ میں درج کر چکے ہیں۔ آج کے استفتاء بالکل بے وقعت ہیں اور ناقابل اعتبار ہیں۔ کیونکہ براہین احمدیہ طبع ہو جانے کے وقت مولوی محمد حسین صاحب کی سچی کانشنس نے اسے مجبور کیا تھا کہ کتاب مذکور کی توصیف وتعریف پر جس کی وہ مستحق تھی زور کے ساتھ ریویو کر دیا جاوے۔ آج اگر مولوی صاحب اپنی رائے کو واپس لینا چاہتے ہیں تو یہ عام مخالفت کا نتیجہ ہے۔ (پھر آپ لکھتے ہیں کہ مرزا مفلس ونادار تھا فریب کیا) بھلا یہ بھی آپ کے آرٹیکل کا موضوع تھا یا یہ فقرہ بے ساختہ قلم سے نکل گیا۔ افلاس کا بار قرب الٰہی کا مانع ہوتا ہے۔ کیا آپ کوئی ایسی تمثیل پیش کر سکتے ہیں؟ نہیں اخلاقاً ایسی طرز کا جملہ سخت معیوب ہے۔ آپ جیسے انسان کو شایان نہ تھا۔ اگر مالی حالت کی کمی یا مفلسی ہی ولایت یا نبوت کی منافی ہے تو انبیاء علیہم السلام کا حال بالخصوص