کا ارادہ کیا تھا۔ اگر واقعی آپ اپنے تسلیم شدہ خیال پر قائم رہتے تو اس عاجز کی طرف سے بھی اتنا طویل مضمون لکھنے تک کی نوبت نہ آتی اور آپ کا مضمون بھی جو ایک ضروری اور اہم معاملات کی نسبت تحریر کیاگیا تھا۔ اخباری دنیا میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔ لیکن جس قدر ہم نے اس کو پڑھ کر نتیجہ پیدا کیا ہے۔ تو نرا یکطرفہ ہے اور انصاف کو زہر آلود چھری سے قتل کیاگیا ہے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کے مقابلہ میں مرزاقادیانی کے کسی قول یا فعل کو بھی چشم انصاف سے نہیں دیکھا گیا۔ اب میں منصف مزاج ناظرین اخبار کے آگے آپ کا آرٹیکل جس میں بے رو رعایت واقعات لکھنے کا دعویٰ قائم کیا گیا ہے۔ معہ اس کے ہیڈنگ کے پیش کرتا ہوں اور بحیثیت ایک اپیلانٹ کے سچا فیصلہ چاہتا ہوں۔
سب سے اوّل آپ نے ہر دو صاحبان سے قطع ارادت کا اظہار کر کے سچے واقعات کے معرض قلم میں لانے کا مجبوراً منشاء ظاہر فرمایا ہے۔ حالانکہ آپ کی جملہ تحریر سے بوضاحت معلوم ہورہا ہے کہ اگر آپ کو پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کے ساتھ شرف صحبت حاصل نہ بھی ہو تو تسلیم۔ لیکن آپ کا حسن ظن پیر صاحبؒ کے حق میں حد سے بڑھ جانے کے علاوہ باہمی اصول مذہبی میں سرمومتناقض معلوم نہیں ہوتا۔ آپ کو کوئی حق بھی حاصل نہ تھا کہ آپ دو مسلمانوں کے مذہبی خیالات پر محاکمانہ فیصلہ لکھتے۔ اوّل تو ممکن بھی نہیں کہ آپ ایک نہ ایک کے ہم خیال نہ ہوں۔ جیسا کہ آپ کے آرٹیکل کی تحریر سے مترشح ہورہا ہے اور دوسرا تعصب اور بیجا ضدیت نے مسلمانوں کے مذہبی خیالات پر بہت کچھ اثر ڈالا ہوا ہے۔ البتہ یہ حق اغیار کو حاصل تھا۔ جن کا کتاب اﷲ وکتاب الرسول سے تعلق نہیں ہے۔ اگر وہ بھی ان ہر دو حضرات کے مشن کے متعلق بے لوث رائے قائم کرنے کی آمادگی ظاہر کریں۔ تاہم بڑے تأمل کے بعد منظور کی جاوے گی۔ بایں وجہ کہ تعصب ہی ایک ایسی خطرناک مرض ہے۔ جس نے رسولوں کو جھٹلایا اور صدیقوں پر لعن طعن کرایا۔ کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ جب دنیا کو روحانی پیشوا کی ضرورت محسوس ہوئی ہو۔ مبعوث ہونے کے وقت جب کہ اس نے دین الٰہی کی منادی شروع کی۔ کافتہ الناس نے آمنّا کہا میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس کا جواب نفی میں دیں گے۔ کیونکہ تواریخی واقعات اس پر بڑے زور کے ساتھ شہادت دے رہے ہیں کہ اولوالعزم نبی کاہن اور جادو گر ٹھہرائے گئے اور ان کی دعوت الٰہی کو سخت تر نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا تو یہ کیا مرض تھی۔ جس نے حق کو سننے نہ دیا۔ یہی تعصب جس نے چشم بینا کو بے نور کر دیا تھا۔ اب میں آپ کو وضاحتاً سناتا ہوں۔ چونکہ ابتداء سے سلسلہ اضداد قائم ہوچکا ہے۔ نبوت میں آدم علیہ السلام اور شیطان کے قصہ پر نظر ڈالو۔ حضرت نوح علیہ السلام ایک زمانہ