تعلق مذہبی مباحثات کے ساتھ تھا آپ کے ہاں تلف کرا چکا ہوں۔ آپ یقینا مان لیں گے کہ یہ فقرہ شکایتاً معرض تحریر میں نہیں لایاگیا۔ بلکہ آپ کا یہ رول میری بہت سے غلطیوں کی اصلاح کا باعث ہوا۔ جس کا میں اپنے آپ کو زیر بار احسان سمجھتا ہوں۔ فی الواقعہ دائرۂ اسلام کے اندر فریقی مناظرات کا کثرت سے رواج پاجانا اسلام کی ترقی معاش ومعاد میں بہت کچھ حارج ہوا ہے۔ لیکن انسان اپنی فطرت میں ایسا کمزور اور بے بس مخلوق کیاگیا ہے کہ وہ کسی طرح بھی اپنے طبعی جذبات یا مذہبی توہمات کے روکنے میں جس میں وہ مقید کیاگیا ہے۔ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ بالخصوص اہل اسلام کو تو مذہبی وہم نے اس حد تک دیوانہ اور از خود رفتہ بنادیا ہے کہ ذرا ذرا سے فروعی اختلاف پر قومیت یا اپنے مذہبی رشتہ کو خیرباد کہنے کے واسطے تیار ہو جاتے ہیں۔ مزید برآں مقلدانہ قیود نے تو مسلمانوں کا یہ حال کر دیا ہے کہ جب کوئی محقق کسی ایسے اہم اور پیچیدہ مسائل کے حل کرنے کی طرف توجہ کرتا ہے تو ہمیں اپنے باپ دادوں کا مذہب اس کے سوچنے اور غور کرنے میں فوری مانع آجاتا ہے۔ لیکن شہادت کی کثرت اس طرف دیکھی گئی ہے کہ ایک زمانہ گذر جانے کے بعد جس کے اجتہاد ملحدانہ نظر سے دیکھ کر اجتناب کیاگیا تھا۔ وہ لیڈر یا ریفارمر کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اب میں آپ کو جنت آشیان سرسید احمد خان کی بے بہا زندگی پیش کرتا ہوں۔ کیا کافتہ المسلمین نے اس کی زندگی کی کچھ قدر کی؟ کبھی نہیں! دنیا کے صاحب اسلام تو بجائے خود انڈیا آبادی کے معتدبہ حصہ نے جس میں علماء صلحاء بھی شامل تھے۔ مرحوم کو صریحاً کافر، دجال، اور ضال، مضل کہا۔ حالانکہ دیگر مذاہب کے لیڈر نے انصافاً مجبور ہوکر مرحوم کے مذہبی اجتہاد کو ٹھیٹ اسلام بتایا۔ حاجی محمد اسماعیل صاحبؒ شہید فی سبیل اﷲ کا حال کسی اہل اسلام سے پوشیدہ نہیں۔ آج تک ایک کثیر حصہ مسلمانوں کا اس کی پاک روح پر لعن طعن کرنے کو عزت اور افتخار کا موجب سمجھتا ہے۔ محدث الوقت سید نذیر حسین صاحبؒ کے حق میں ایک ایسا خطاب اہل تقلید کی طرف سے تجویز کیاگیا ہے۔ جس کے سننے سے ایک غیور اور سلیم الفطرت مسلمان کا دل کانپ جاتا ہے۔ اب رہا معاملہ مرزاقادیانی کا اس کے متعلق اگر کچھ لکھوں گا تو مجبوراً کیونکہ آپ کے واجب التعظیم اور میرے واجب العزت حضرت مبصر صاحب نے گندم نمائی اور جو فروشی کے بازار کو سخت گرم کر کے دکھایا ہے۔ اے میرے واجب العزت اس وقت آپ میرے مخاطب ہیں۔ میں نے آپ کے آرٹیکل کو بہت غور سے دیکھا ہے۔ جیسا کہ اپنے آرٹیکل کے مقدمہ لکھنے کے وقت ہر دو حضرات سے قطع ارادت ظاہر کرتے ہوئے راست راست واقعات پبلک پر ظاہر کرنے