صاحبؒ کے لاہور سے تشریف لے جانے سے ایک ہفتہ بعد چند اہل علم ایک پیر مرد لاہوری ریشم فروش کی دوکان پر بیٹھے ہوئے تھے اور مرزاقادیانی کے خسر ’’نواب ناصر‘‘ بھی وہاں موجود تھے اور مذکورہ بالا مباحثہ کی نسبت ذکر ہورہا تھا۔ اس پیر مرد مذکور نے کہا کہ میں نے جو نتیجہ نکالا ہے۔ بدوحرف بیان کرتا ہوں۔ یعنی پیر مہر علی شاہ صاحبؒ نے یک طرفہ ڈگری اس مباحثہ میں حاصل کی ہے۔ مگر ایک بزرگ نے اس کا یہ جواب دیا کہ مدعا علیہم یا ملزموں نے کیوں فرار اختیار کیا؟ اور کیا فراری ملزموں یا مدعا علیہم کو سزا نہیں دی جاتی؟ اور ان سے ڈگری کا روپیہ وصول نہیں کیا جاتا اور کیا کسی نے فراری ملزموں کی طرف سے اپیل بھی کی ہے کہ یہ لوگ دراصل مفتری اور کاذب نہیں ہیں اور انہوں نے شرم وحیا سے فارغ خطی حاصل کی ہوئی نہیں ہے؟
یہ مرزاقادیانی کے شایان شان والا ہی ہے کہ سب کے سب الہامات جھوٹے ہو جاویں۔ ہر ایک مباحثہ میں شکست پر شکست ان کے نصیب ہو۔ مگر واہ رے حوصلہ جلیل کہ اپنے بزرگ سے سرکو کبھی نیچا نہ کریں۔ آخر کو ہم جناب پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کی خدمت میں اتنا عرض کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ آپ نے یہ ایک نہایت بڑا کار ثواب مسلمانوں کی حمایت میں کیا ہے کہ آپ دروغ گو کو اس کے گھر پہنچا آئے۔
ایں کار ثواب از تو آید ومرداں چنیں کنند
اور آئندہ بھی جناب اس جماعت کی خدمت کرنے میں دریغ نہ فرماویں گے۔ بقول سعدیؒ ؎
ہاں تاسپر نیگفنی از جملہ فصیح
کوراجز ایں مبالغہ مستعار نیست
(راقم امام الدین از گجرات پنجاب)
خدا کے لئے مبصر صاحب ذرا توجہ سے پڑھیں
گذشتہ تحریر کا جواب
ایڈیٹر صاحب تسلیم والتکریم!
مجھے اس امر کا ایک عرصہ سے اعتراف ہے کہ آپ کے اخبار میں مذہبی مباحثات کے اندراج کا ہمیشہ سے احتراز کیاگیا ہے۔ تجربتاً کہتا ہوں۔ کیونکہ جب میں خود ایسے مضامین جن کا