مذہب اسلام سے منافی ہوں۔ بلکہ خود اس کو نبوت کا دعویٰ ہو اور کل اہل اسلام کو سوا اپنی جماعت کے کافر سمجھتا ہو اور اپنی ذات کو مسیح موعود جانتا ہو۔ ’’یعنی مان نہ مان میں تیرا مہمان‘‘ اس کو اندھا دھندی سے مسلمان سمجھا جاوے۔
اب مرزاقادیانی گو کہ اپنے ’’بیت الفکر‘‘ میں بیٹھ کر اپنی جماعت کو تحریروں اور تقریروں سے خوش کیا کریں۔ مگر ان میںاس قدر طاقت کہاں تھی کہ ایک بزرگ برگزیدہ فاضل کے بالمقابل اور پھر عام جلسہ میں تقریر کر سکیں۔ غرض کہ پیر صاحب موصوف کی طرف سے رجسٹری شدہ خطوط اور اشتہارات بنام مرزاقادیانی ودیگر کافتہ المسلمین نکلنے شروع ہوئے کہ ہم کو سب شرطیں منظور ہیں۔ ۲۵؍اگست ۱۹۰۰ء کو بمقام دارالسلطنت لاہور فریقین حاضر ہوں اور ایک معقول عرصہ میں آپس میں فیصلہ کیا جاوے۔ مگر مرزاقادیانی اور ان کی جماعت سے وہی لنگڑے عذرات اور معمول سب وشتم وغیرہ وغیرہ۔ آخر کو مقررہ تاریخ بھی آپہنچی۔ جس میں صدق کا چراغ شوخ اور دروغ کو بے فروغ ہونا تھا اور مرزاقادیانی کی تمناؤں کی بربادی اور رسوائی ایک جہان میں مشتہر ہونی تھی۔
چنانچہ پیر صاحبؒ موصوف مرزاقادیانی کو اپنے مقابلہ میں بلاتے ہوئے ۲۵؍اگست ۱۹۰۰ء کو لاہور ریلوے اسٹیشن پر جلوہ نما ہوئے۔ لاہور کے مسلمانوں نے جن کی تعداد کوئی چھ ہزار سے کم نہ تھی۔ شاہ صاحبؒ موصوف کا ریلوے اسٹیشن پر استقبال کیا اور با عزت واکرام ان کو شہر میں لائے اور چھ سات روز تک مرزاقادیانی کی انتظاری کی۔ اثنائے قیام لاہور میں ایک بڑا بھاری جلسہ بادشاہی مسجد میں ہوا۔ جس میں بڑے بڑے علماء اسلام دور دراز سے آکر شامل ہوئے۔ مگر مرزاقادیانی کی طرف سے صدائے برنخاست کا معاملہ رہا۔ گویا وہ معہ اپنی پاک جماعت کے شہر خموشاں میں جا بسے ہیں۔ جب کافتہ المسلمین لاہور وغیرہ حضرت پیر صاحبؒ کو ریل پر (واپس) چڑھا آئے اور مرزاقادیانی بمعہ اپنی جماعت کے اس بیہوشی کی حالت اور غشی کی نوبت سے ہوش میں آئے، اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اب تو پیر صاحب اپنے گھر میں پہنچ گئے ہوںگے، تو پھر پھکڑ بازی کے اشتہارات لاہور کے درودیوار پر لگانے لگے، کہ پیر صاحب ہارگئے۔ اگر نہیں ہارے تو اب ہمارے مقابلہ میں آویں۔ اتنی تعداد پولیس کی ہو۔ اس قدر حکام جلسہ میں شامل ہوں، وغیرہ وغیرہ۔
سو یہ ہیں اصل حالات اور سچے واقعات، اور یہ ہیں اسباب جن سے مرزاقادیانی کی تازہ سرد بازاری ہو رہی ہے اور کئی ایک ان کے مرید بھی اصلی حالات سے واقف ہوکر ان سے بھاگے جاتے ہیں۔ یقین کامل ہے جوں جوں مرزاقادیانی کی پولیٹکل چالوں سے مریدان باصفا مرزاقادیانی واقف ہوتے جاویں گے۔ اس کساد بازاری کی زیادہ تر حقیقت کھلتی جاوے گی۔ پیر