بل میں جگہ لیتے ہیں۔ سو آج تک اﷲتعالیٰ نے ان کو کامیاب نہیں کیا اور زک پر زک ان کے نصیب ہوتی ہے اور پیشگوئیوں کی جو گت بنی کہ سب کی سب غلط بود۔ اس کے بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ مگر مولوی محمد حسین والی پیش گوئی اور گورداسپور کے مقدمہ نے تو سب الہامات ضبط کر دئیے اور بقول شخصے ان کی نبوت ہی قرق ہوگئی۔ اس پر بھی واہ رے حوصلہ مرزاقادیانی کا اس شرم وحیا کے عالم میں ان کے استقلال مزاج میں ایک ذرہ بھر بھی توفرق نہ آیا اور اس مقدمہ کے بعد اگرچہ مرزاقادیانی کو کوئی بھی نہ پوچھتا تھا کہ آپ کے منہ میں کتنے دانت ہیں اور دوکانداری کی سخت کساد بازاری ہوگئی تھی۔ مگر آپ نے ہمت نہ ہاری کہ اس نازک حالت میں بھی ان کو خیال تھا کہ کوئی ایسی تدبیر سوچی جاوے جس سے میری پاک جماعت کے دلوں میں فرق نہ آوے اور ہینگ پھٹکڑی بھی نہ لگے اور کیا عجب ہے کہ کوئی موٹی مچھلی بھی کانٹے میں لگ جاوے۔
چنانچہ ۱۹۰۰ء کے وسط میں پھر چھیڑ چھاڑ شروع کی، اور بڑے زور وشور کا اشتہار مشروط چند شرائط نکالا، کہ اگر کوئی مسلمانوں میں ہے تو میرے مقابلہ میں قرآن شریف کی کسی سورۃ کی تفسیر لکھے۔ گو آپ کو یقین کامل تھا کہ مسلمان میری حقیقت کو سمجھ چکے ہیں اور کسی کو کیا پڑی ہے۔ جو خواہ مخواہ میرے ساتھ الجھ پڑے گا اور جب کہ ایسا نہیں ہوگا تو میری ایک بات رہ جاوے گی کہ قرآن شریف کی تفسیر لکھنے میں میرے ساتھ کسی نے مقابلہ نہیں کیا۔
مگر بقول شخصے ’’ہر فرعونے را موسیٰ‘‘ پیرمہر علی شاہ صاحبؒ جو موضع گولڑہ (ضلع راولپنڈی) کے رہنے والے ہیں اور روحانی برکات اور فیوض اپنے ساتھ رکھنے کے علاوہ ایک مسلم الثبوت مستند فاضل اجل اور عالم بے بدل ہیں اور جن کا دل مرزاقادیانی کے کفریات اور سب وشتم بحق علماء عظام اور صوفیاء ومشائخ کرام سنتے سنتے چور ہوگیا تھا۔ قصد مصمم کر لیا کہ ’’دروغگوئے را تابخانہ باید رسایند‘‘ پس مرزاقادیانی کے سب شرائط پیش کردہ کو منظور کر کے صرف اس قدر ایزادی کی کہ تفسیر تو ایک دوسرے کے مقابلہ میں ضرور لکھیں گے۔ مگر تفسیر لکھنے کے پیشتر کچھ تقریری گفتگو بھی ایک عام جلسہ میں ہونی چاہئے۔ تاکہ دونوں طرفوں کے اصول اور عقائد پبلک پر ظاہر ہو جاویں اور اگر انصاف کی نگاہ سے دیکھا جاوے تو جناب پیر صاحب موصوف کی یہ ایزادی عین اپنے موقعہ اور محل پر تھی۔ کیونکہ تفسیر لکھنے والے حریف مقابل کے اصول اور اعتقادات سے جس پر علماء اسلام کے کفر کے فتوے لگ چکے ہوں اور یہ ثابت نہ ہو جاوے کہ اس نے اپنے پہلے کفریات اور الحاد سے سچی توبہ کر لی ہے اور واقعی یہ شخص مسلمان ہے۔ اس کے ساتھ کیا اور کیونکر تفسیر القرآن لکھی جاوے اور یہ بات تو نہایت ہی حیرت انگیز ہے کہ ایک شخص کے اصول اور اعتقادات تو