محمد دیکھنا ہو جس نے اکملغلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(اخبار الفضل قادیان ج۳ نمبر۱ ص۴، مورخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۱۵ئ) پر ہے کہ: ’’آنحضرتﷺ ہلال کی مانند (پہلی رات کا چاند) ہیں اور غلام احمد بدر (چودھویں رات کا چاند) کی طرح ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۴۷، خزائن ج۳ ص۱۲۶) پر ہے کہ: ’’معراج اس جسم کثیف سے نہیں ہوا بلکہ وہ ایک اعلیٰ کشف تھا۔‘‘
(رسالہ تشحیذ الاذہان ص۴۳۱ نمبر۱ ج۶) میں ہے کہ: ’’احمدی حضرات معراج کو نہ خواب کا واقعہ جانتے ہیں اور نہ وحی مانتے ہیں۔ جسم صرف خاکی نہیں ہوتا بلکہ مثالی بھی ہوتا ہے اور روح جب مثال سے متعلق ہو تو اس وقت براق پر سوار ہو سکتا ہے۔ اس لئے براق کی سواری سے معراج کا یہ جسد عنصری ہونا لازم نہیں ہوتا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۹۰، خزائن ج۲۲ ص۴۰۵) پر ہے کہ: ’’کیا سفر حدیبہ (رسول اﷲ کی) اجتہادی غلطی نہ تھی کیا یمامہ یا ہجر کو اپنی ہجرت کا مقام خیال کرنا (رسول اﷲ کی) اجتہادی غلطی نہ تھی اور کیا (آنحضرتﷺ کی) کئی اور غلطیاں اجتہادی نہ تھیں۔ جن کا لکھنا موجب تطویل ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۶۸۸، خزائن ج۳ ص۴۷۱) پر ہے کہ: ’’انبیاء کے اجتہاد میں سہو اور خطاء کا امکان ہے۔ مثلاً آنحضرتﷺ کا مکہ میں نہ پہنچنا اور کفار کا طواف خانہ کعبہ سے روک لینا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۶۹۱، خزائن ج۳ ص۴۷۳) پر ہے کہ: ’’آنحضرتﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت پوری پوری ظاہر نہ ہوسکی۔‘‘
پھر (ص۴۲۲) پر ہے کہ: ’’انبیاء لوازم بشریت سے بالکل الگ نہیں ہوسکتے۔‘‘
(القول الفصل ص۴۹) پر ہے کہ: ’’رسول اﷲﷺ بھی غلطی سے محفوظ نہ تھے۔‘‘
(بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ج۲ ص۱۰۸۷) پر ہے کہ: ’’آنحضرتﷺ اپنے اجتہاد سے کبھی کچھ نہ فرماتے۔‘‘
(سنن ابو داؤد کتاب العلم ج۲ ص۱۵۸) میں ہے کہ: ’’فرمایا آنحضرتﷺ نے کہ خدا کی قسم میرے منہ سے کچھ نہیں نکلتا سوائے کلمہ حق کے۔‘‘
مرزائیوں کے ایک قلیل التعداد گروہ کا یہ کلمہ ہے۔ ’’لا الہ الا اﷲ احمد جری اﷲ‘‘