اپنے ہاتھ کاٹے گا کہ کاش میں اسے خدا کے بھیجے ہوئے (مرزاقادیانی) سے مخالفت نہ کرتا اور اس کے ساتھ رہتا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۷۸، خزائن ج۲۲ ص۸۱) پر ہے کہ: ’’وہ پاک ذات وہی خدا ہے جس نے تجھے (مرزاقادیانی کو) رات میں سیر کرایا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۹۴، خزائن ج۲۲ ص۹۷) پر ہے کہ: ’’میں تجھ کو ایک عظیم فتح عطاء کروں گا جو کھلی کھلی فتح ہوگی۔ تاکہ تیرا خدا تیرے تمام گناہ بخش دے جو پہلے اور پچھلے ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۰۷، خزائن ج۲۲ ص۱۱۰) پر ہے کہ: ’’اے سردار (مرزاقادیانی) تو خدا کی طر ف سے راہ راست پر خدا کا مرسل ہے۔ جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘
(اخبار الحکم مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۲۵ء ص۴) پر ہے کہ: ’’سلسلۂ عالیہ احمدیہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو منہاج نبوت پر واقع ہوا ہے اور اس سلسلہ کے اندر روح نبوت کام کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احمدیت ( مرزائیت) ایک تبلیغی سلسلہ ہے کہ حضرت حجت اﷲ مسیح موعود علیہ السلام اپنے سید ومولا ومتبوع وامام الرسل حضرت خاتم النبیینﷺ کی طرح کل دنیا کے لئے مبعوث ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ان کے ذریعہ اظہار الدین مقدر کر رکھا ہے۔ اور ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ کی وحی آپ کو (مرزاقادیانی کو) ہو چکی ہے۔ پس جب کہ مسیح موعود کی اشارت کل اقوام عالم اور افراد کے لئے اس رنگ میں ہے۔ جس طرح سید الرسل حضرت احمدؐ مکیﷺ کو خطاب ہوا تھا کہ: ’’قل انی رسول اﷲ جمیعا‘‘ اور حضرت مسیح موعود نے مہدی مسعود اور کرشن مہاراج کے دعوے میں اس امر کو واضح کر کے دکھادیا۔‘‘
(اخبار الحکم ج۴ مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۰ئ) میں عبدالکریم امام مسجد قادیان لکھتا ہے کہ: ’’یہ مزکی اور مطہر انسان (مرزاقادیانی) حضرت سید عالمﷺ کی خوبو اور قوت اور نشان کے ساتھ آیا۔ بلکہ بیعنہ وہی آیا۔ کیونکہ اس میں (مرزاقادیا میں) احیاء اور اماتت کی وہی قدرت ہے۔ یہ ویسا ہی بشیر اور نذیر ہے اور حجتہ اﷲ اور آیۃ اﷲ ہے۔‘‘
(اخبار بدر قادیان نمبر۴۳ ص۱۴، مورخہ ۲۵؍اکتوبر۱۹۰۶ء ج۲ کالم اوّل ) میں ذیل کے دو شعر درج ہیں ؎
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے بڑھ کر اپنی شان میں