(اشتہار مورخہ ۵؍نومبر ۱۹۰۱ء مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان) میں ہے کہ: ’’جب کہ میں اس مدت تک ڈیڑھ سو پیشین گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پاکر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول ہونے کے نام سے کیونکر انکار کروں اور جب کہ خداتعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو کیونکر انکار کروں اور میں جیسا قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ویسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان رکھتا ہوں۔ جو مجھے ہوئی۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۳۵)
(اربعین نمبر۲ ص۵، خزائن ج۱۷ ص۳۵۱) پر ہے کہ: ’’یہ دو نام اور دو خطاب خاص آنحضرتﷺ کو قرآن شریف میں دئیے گئے ہیں۔ (یعنی سیدالانبیاء اور رحمت اللعالمین) پھر وہی دو خطاب الہام میں مجھے دئیے گئے۔‘‘
(اربعین نمبر۳ ص۲۲، خزائن ج۱۷ ص۴۰۹) پر ہے کہ: ’’اس امت میں وہ ایک شخص میں ہی ہوں۔ جس کو اپنے نبی کریم کے نمونہ پر وحی اﷲ پانے میں ۲۳برس کی مدت دی گئی اور ۲۳برس تک برابر سلسلہ وحی کا جاری رکھاگیا۔‘‘
(اربعین نمبر۳ ص۲۳، خزائن ج۱۷ ص۴۱۰) پر ہے کہ: ’’ہم نے تجھے دنیا کی رحمت کے لئے بھیجا ہے۔‘‘
(نور الدین ص۱۲۰) پر ہے کہ: ’’جس قدر معجزات اور خوارق انبیاء علیہم السلام کے اور ہمارے نبی کریمﷺ کے قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ ان سب کے صدق اور حقیقت کے ثابت کرنے کے لئے آج اس زمانہ میں ایک شخص موجود ہے۔ جس کا یہ دعویٰ ہے کہ اسے وہ تمام طاقتیں کامل طور پر خداتعالیٰ کی طرف سے عطاء ہوئی ہیں۔ جو انبیاء علیہم السلام کو ملی تھیں۔‘‘
(اربعین نمبر۳ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۲۶) پر ہے کہ: ’’ (خدا فرماتا ہے)یہ (مرزاغلام احمد قادیانی) اپنی طرف سے نہیں بولتا بلکہ جو کچھ تم سنتے ہو یہ خدا کی وحی ہے۔ یہ خدا کے قریب ہوا یعنی اوپر کی طرف گیا اور پھر نیچے کی طرف تبلیغ حق کے لئے جھکا۔ اس لئے یہ دو قوسین کے وسط میں آگیا۔ اوپر خدا نیچے مخلوق۔ (بیچ میں مرزاقادیانی)‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۰۲، خزائن ج۲۲ ص۱۰۵، انجام آتھم ص۵۸، خزائن ج۱۱ ص۵۸) پر ہے کہ: ’’(خدا نے مرزاقادیانی کو فرمایا) انا اعطیناک الکوثر فصل لربک وانحر‘‘
(اربعین نمبر۳ ص۳۳، خزائن ج۱۷ ص۴۲۳) پر ہے کہ: ’’اس دن (بروز قیامت) ظالم