تم مصلح کل ہو سیدنا
تم شمس وقمر ہو سیدنا
اس (اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳) میں مرزاقادیانی نے لکھا ہے۔(محمدؐ) کے لئے چاند کے گہن کا نشان ظاہر ہوا۔ مگر میرے لئے چاند اور سورج دونوں گہنا گئے۔
(کتاب البریہ ص۸۵، خزائن ج۱۳ ص۱۰۳) پر ہے کہ: ’’اے مرزا تجھ کو تمام دنیا پر فضیلت حاصل ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۸۹، خزائن ج۲۲ ص۹۲) پر ہے کہ: ’’دنیا میں کئی تخت اترے۔ مگر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا ہے۔‘‘
(استفتاء ص۸۷، خزائن ج۲۲ ص۷۱۵) پر ہے کہ: ’’مجھے وہ ملا جو تمام دنیا میں کسی کو نہیں دیا گیا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۵۳۳، خزائن ج۳ ص۳۸۶) پر ہے کہ: ’’خدا نے اس عاجز کا نام نبی بھی رکھا۔‘‘
(دافع البلاء ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۲۵) پر ہے کہ: ’’خدا نے ارادہ کیا اس بلائے طاعون کو ہر گز دور نہیں کرے گا۔ جب تک لوگ ان خیالات کو دور نہ کریں۔ جو ان کے دلوں میں ہیں۔ یعنی جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو نہ مان لیں۔‘‘ (دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱) پر ہے کہ: ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے اپنا رسول قادیان میں بھیجا۔‘‘
(اربعین نمبر۳ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۲۶) پر ہے کہ: ’’خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب واخلاق کے ساتھ بھیجا۔‘‘
(اخبار بدر مورخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ئ) میں ہے کہ: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم بغیر نئی شریعت کے رسول اور نبی ہیں۔ بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے۔ جن پر کتاب نازل نہیں ہوئی۔‘‘
(اخبار البدر قادیان مورخہ ۲۴؍نومبر ۱۹۰۴ء ج۳) پر ہے کہ: ’’چونکہ اس مبارک زمانہ میں خدا کا ایک برگزیدہ نبی اور رسول موجود ہے۔ اس لئے عذاب بھی اس قسم کے نازل ہورہے ہیں۔ جو انبیاء کے وقتوں میں ہوتے تھے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۷۹، خزائن ج۲۲ ص۸۲) پر ہے کہ: ’’یہ شخص (میں) نبیوں کے پیرایہ میں رسول خدا ہے۔‘‘