(ازالہ اوہام ص۱۳۸، خزائن ج۳ ص۱۷۰) پر ہے کہ: ’’ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ ادنیٰ درجہ صراط مستقیم کا بھی بغیر اتباع ہمارے نبیﷺ کے ہرگز انسان کو حاصل نہیں ہوسکتا۔ چہ جائیکہ راہ راست کے اعلیٰ مدارج بجز اقتداء اس امام الرسل کے حاصل ہو سکیں۔‘‘
رسالہ تکمیل (تبلیغ ص۲) پر ہے کہ: ’’قال اﷲ وقال الرسول کو اپنے ہر ایک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔‘‘
(نور القرآن ص۳۲، خزائن ج۹ ص۴۰۷، مطبوعہ ۱۸۹۶ئ) پر ہے کہ: ’’ہمیں قرآن اور احادیث صحیحہ کی پیروی کرنا ضروری ہے۔‘‘
(توضیح المرام ص۱۸، خزائن ج۳ ص۶۰) پر ہے کہ: ’’رسول اﷲﷺ خاتم النبیین نہیں ہیں۔‘‘
مرزاقادیانی نے ۱۹۰۱ء میں (ایک غلطی کا ازالہ ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰) میں لکھا کہ: ’’جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا۔ صرف ان معنوں سے کیا کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل نبی ہوں۔ پھر مرزا نے (ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷) میں لکھ دیا کہ میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔‘‘
ناظرین! آنحضرتﷺ کے عہد مبارک میں بھی مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی اور سجاح بنت منذر اور طلحہ بن خویلد مدعی نبوت ہوئے تھے۔ جواب عنقا کا حکم رکھتے ہیں۔ پس یہ فتنۂ مرزائیت بھی چار دن کی کھیل ہے۔
(کتاب الوصیۃ ص۸ حاشیہ، خزائن ج۲۰ ص۳۰۶) میں مرزاقادیانی لکھتا ہے کہ: ’’خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ تیری جماعت کے لئے تیری ذریت سے ایک شخص کو قائم کروں گا اور اس کو اپنے قرب اور وحی سے مخصوص کروں گا اور اس کے ذریعہ سے حق ترقی کرے گا اور بہت لوگ سچائی کو قبول کریں گے۔ پس ان دونوں کے منتظر رہو۔‘‘
مولوی قاسم علی مرزائی نے اپنے اخبار فاروق کے نمبر اوّل میں ایک قصیدہ مرزا کے بیٹے محمود احمد خلیفہ دوم کی تعریف میں لکھا تھا۔ جس کا آغاز اس طرح ہے۔
تم فخر رسل ہو سیدنا
تم فضل عمر ہو سیدنا