قصیدہ الہامی میں ہے ؎
من نیستم رسول ونیاوردہ ام کتاب
(ازالہ اوہام ص۱۷۸، خزائن ج۳ ص۱۸۵)
(تقریر نمبر اوّل ص۱۷، سطر۱۶، دین الحق ص۶۷مصنفہ قاسم علی) پر ہے کہ: ’’یہ امر مسلمہ ہے کہ کسی چیز کا خاتمہ اس کی علت نمائی کے اختتام پر ہوتا ہے۔ جیسے کتاب کے جب کل مطالب بیان ہو جاتے ہیں تو اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پر رسالت اور نبوت کی علت نمائی رسول اﷲﷺ پر ختم ہوئی اور یہی ختم نبوت کے معنی ہیں۔ کیونکہ یہ سلسلہ جو چلا آیا ہے کامل انسان پر آکر اس کا خاتمہ ہوگیا۔‘‘ (تقریر نمبر اوّل، دین الحق ص۶۷ مصنفہ قاسم علی) پر ہے کہ: ’’اﷲتعالیٰ نے جو کمالات سلسلہ نبوت میں رکھے ہیں۔ مجموعہ طور پر ہادی کامل پر ختم ہوچکے۔ اب ظلی طور پر ہمیشہ کے لئے مجدد دین کے ذریعہ سے دنیا پر اپنے پر تو ڈالتے رہیں گے۔ اﷲتعالیٰ اس سلسلہ کو قیامت تک رکھے گا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۵۵) پر ہے کہ: ’’جو شخص خاتم الانبیاء کی ختم نبوت کا منکر ہو۔ میں اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔‘‘
(تقریر لاہور مطبوعہ حجۃ اﷲ ٹریکٹ حکیم محمد حسین قریشی مقبولہ پیغام جون ۱۹۱۵ئ) میں ہے کہ: ’’خدائے تعالیٰ کی طرف سے ایک کلام پایا جو غائب پر جو مستقل زبردست پیشین گوئیاں ہوں۔ مخلوق کو پہنچانے والا اسلامی اصطلاحی کی رو سے نبی کہلاتا ہے۔‘‘
(تشحیذ الاذہان نمبر۷ ج دہم مورخہ ماہ جولائی ۱۹۱۵ئ) میں ہے کہ: ’’نبوت کے بارہ میں جو مذہب آپ کا یعنی مرزاغلام احمد قادیانی کا ۱۹۰۱ء سے پہلے تھا۔ وہ ۱۹۰۱ء کے بعد نہیں رہا۔‘‘
(مورخہ ۲۰؍شعبان ۱۳۱۴ھ، مطبوعہ قادیان، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۲۹۷) میں ہے کہ: ’’ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں۔‘‘
(حمامتہ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷) پر ہے کہ یہ جائز نہیں کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں سے جا ملوں۔
نہایت المعقول امام رازی میں ہے کہ جس نے نبوت محمدؐ سے انکار کیا یا قرآن کے معجزات سے انکار کیا وہ کافر ہے۔ شرح مواقف مقصد ثالث بیان کفر میں ہے کہ رسولﷺ کی تصدیق نہ کرنا اور اس کے یقینی شرعی حکم نہ ماننا کفر ہے۔