مجموعۂ مکاتیب میں موجود ہے اور اس پر ۲۴؍جنوری ۱۸۹۱ء کی تاریخ درج ہے۔ اس سے اس تحریک کے فکری سرچشمہ کا ااور اس کے اصل مجوزومصنف کا علم ہوتا ہے۔ مرزاقادیانی کے اس تاریخی خط کا اقتباس یہاں نقل کیاجاتا ہے۔
’’جو کچھ آں مخدوم نے تحریر فرمایا ہے کہ اگر دمشقی حدیث کے مصداق کو علیحدہ چھوڑ کر الگ مثیل مسیح کا دعویٰ ظاہر کیا جائے تو اس میں حرج کیا ہے؟ درحقیقت اس عاجز کو مثیل مسیح بننے کی کچھ حاجت نہیں۔ یہ بننا چاہتا ہے کہ خداتعالیٰ اپنے عاجز اور مطیع بندوں میں داخل کر لیوے۔ لیکن ہم ابتلاء سے کسی طرح بھاگ نہیں سکتے۔ خداتعالیٰ نے ترقیات کے ذریعہ صرف ابتلاء ہی کو رکھا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے: احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا اٰمنا وہم لا یفتنون‘‘ (مکتوبات احمدیہ ج۵ حصہ دوم ص۸۵)
اس مشورہ کے حقیقی اسباب ومحرکات کیا تھے؟ کیا یہ حکیم صاحب کی دوربینی اور دوراندیشی اور حوصلہ مند طبیعت ہی کا نتیجہ تھا۔ یا یہ حکومت وقت کے اشارہ سے تھا۔ جس کو ماضی قریب میں حضرت سید احمد صاحبؒ کی دینی وروحانی شخصیت اور ان کی تحریک ودعوت سے بڑا نقصان پہنچ چکا تھا اور اسی دور میں مہدی سوڈانی کے دعوے مہدویت سے سوڈان میں ایک زبردست شورش اور بغاوت پید ا ہو چکی تھی۔ اس سب کے توڑ اور آئندہ کے خطرات کے سدباب کے لئے یہی صورت مناسب تھی کہ کوئی قابل اعتماد شخصیت جس نے مسلمانوں میں اپنی دینی خدمات اور جوش مذہبی سے اثر ورسوخ پیدا کر لیا ہو۔ مسیح موعود کے دعوے اور اعلان کے ساتھ کھڑی ہو اور وہ مسلمان جو ایک عرصہ سے مسیح موعود کے منتظر ہیں۔ اس کے گرد جمع ہو جائیں؟ ہم وثوق کے ساتھ ان میں سے کسی ایک چیز کی تعیین نہیں کر سکتے اور یہ اسباب ومحرکات کا پتہ لگانا آسان ہے۔ لیکن اس خط سے اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ اس تحریک کا آغاز کس طرح ہوتا ہے۔
انبیاء کا اعلان نبوت کسی تحریک ومشورہ سے نہیں ہوتا
یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ انبیاء ومرسلین کا معاملہ ان خارجی تحریکات ومشوروں اور رہنماؤں سے بالکل الگ ہے۔ ان پر آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے اور ان کو ان کے منصب ومقام کی قطعی اور واضح طریقہ پر خبر دی جاتی ہے۔ وہ اس یقین سے سرشار ہوتے ہیں اور پہلے دن سے اس کا اعلان اور اس پر اصرار کرتے ہیں۔ ان کے عقیدہ اور دعوت کا سلسلہ کسی تجویز یا رہنمائی کا رہین منت نہیں ہوتا۔ ان کا پہلے دن سے یہ کہنا ہوتا ہے: ’’وبذالک امرت وانا اوّل المسلمین وبذالک امرت وانا اوّل المؤمنین‘‘ مجھے اس کا حکم ہوا ہے اور میں پہلا