فرمانبردار ہوں۔ مجھے اسی کا حکم ہے اور میں اس پر پہلا یقین کرنے والا ہوں۔
نزول مسیح کا عقیدہ
نزول مسیح کا عقیدہ ایک اسلامی عقیدہ ۱؎ ہے۔ مسلمان اس عقیدہ سے واقف اور اس کے قائل تھے۔ احادیث میں اس کی اطلاع دی گئی ہے اور مسلمان حالات کی خرابی اور پیہم حوادث ومصائب کے اثر سے کسی مرد غیب کے منتظر بھی تھے اور بالخصوص تیرھویں صدی کے خاتمہ پر ظہور مسیح کا چرچا بھی تھا۔ حکیم صاحب کو اس کا خیال ہوسکتا تھا کہ مرزاقادیانی نے اپنی دینی خدمات سے جو مقام حاصل کر لیا ہے۔ اس کی بناء پر مسلمان ان کے اس دعوائے مسیحیت کوتسلیم کر لیں گے۔
۱؎ حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان پر جانے اور دوبارہ اترنے کا عقیدہ مسلمانوں کے ان عقائد میں سے ہے۔ جن پر قرآن بھی دلالت کرتا ہے اور جو متواتر احادیث وآثار سے ثابت ہے اور جو مسلمانوں میں بلاکسی انقطاع کے تسلسل کے ساتھ چلا آرہا ہے۔ حافظ ابن کثیرؒ نے اس کی تصریح کی ہے کہ نزول مسیح کی احادیث درجۂ تواتر کو پہنچ چکی ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں ابوالحسین آبریؒ سے تواتر کا قول نقل کیا ہے۔ علامہ شوکانیؒ کا ایک مستقل رسالہ اس موضوع پر ’’التوضیح فی تواتر ما جاء فی المنتظر والدجال والمسیح‘‘ کے نام سے ہے۔ جہاں تک نقل کا تعلق ہے۔ کسی قابل اعتماد شخصیت سے اس کے خلاف منقول نہیں۔ معتزلہ کی طرف بھی اس کی نسبت صحیح نہیں۔ علامہ ابن حزمؒ نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب الفصل فی الملل والنحل میں صاف لکھ دیا ہے کہ عقیدۂ نزول تواتر سے ثابت ہے۔ ان نقول وتفصیلات کے لئے مولانا انور شاہ صاحبؒ کی جلیل القدر تصنیف ’’عقیدہ الاسلام‘‘ ملاحظہ کی جائے۔ جہاں تک مسئلہ کے عقلی پہلو کا تعلق ہے۔ تو واقعہ یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ کی قدرت کو محیط اور اﷲ کی صفات وافعال کو کامل ماننے کے بعد کسی ایسی چیز کے امکان وقوع میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں جو نقل صحیح اور تواتر سے ثابت ہو۔ خصوصیت کے ساتھ طبیعیات وعلوم طبیعہ کی جدید ترقیات وفتوحات کے بعد اور ان واقعات کے پے درپے وقوع کے بعد جو علم واکتشافات کی اس ترقی سے پہلے عقلی طور پر محال وناممکن الوقوع سمجھے جاتے تھے اور ایسے وقت میں جب مصنوعی چاند قلیل سے قلیل وقت میں دنیا کے گرد چکر لگالیتے ہیں اور انسان چاند تک پہنچنے اور خلا اور فضائے بسیط میں سفر کی کوشش کر رہا ہے۔ فاطر کائنات کے حکم وارادہ سے کسی ہستی کا زمین سے اوپر جانا اور طویل مدت تک رہنا کیا ناممکن اور مستبعد ہے؟ اس مسئلہ میں ان عقلی اشکالات کو پیش کرنا جو یونانی فلسفہ کی قدیم ہیئت کے خیالی مفروضات اور نظری قیاسات پر مبنی ہیں۔ ایک ایسی طفلانہ ذہنیت ہے جس کی اس ترقی یافتہ زمانہ میں گنجائش نہیں۔