تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگادے
یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد
(ضرب کلیم)
اس انیسویں صدی کا اختتام تھا کہ مرزاغلام احمد قادیانی اپنی نئی دعوت وتحریک کے ساتھ منظر عام پر آئے ان کو اپنی دعوت اور اپنے حوصلوں اور بلند ارادوں کی تکمیل کے لئے مناسب زمانہ اور مناسب جگہ ملی۔ طبیعتوں کی عام بے چینی عوام کی عجائب پرستی، معتدل ذرائع اصلاح وانقلاب سے مایوسی، علماء کے وقار واعتماد کا زوال وتنزل، مذہبی بحثوں کی گرم بازاری اور اس کے نتیجہ میں عامیانہ ذوق جستجو اور طبیعتوں کی آزادی، ہر چیز ان کے لئے معاون اور سازگار ثابت ہوئی۔ دوسری طرف حکومت وقت نے (جو مجاہدین کی تحریک سے زک اٹھا چکی تھی اور مسلمانوں کے جذبۂ جہاد اور جوش مذہبی سے پریشان وہراساں رہتی تھی) اس تحریک کا خیرمقدم کیا۔ جس نے حکومت برطانیہ کے ساتھ وفاداری اور اخلاص کو اپنے بنیادی عقائد اور مقاصد میں شامل کیا تھا اور جس کے بانی کا حکومت کے ساتھ قدیم اور غیرمشتبہ تعلق تھا۔ ان تمام عناصر واسباب نے مل کر وہ مناسب ومعاون ماحول فراہم کیا۔ جس میں یہ تحریک وجود میں آئی اور اس نے اپنے پیرو اور ہم خیال پیدا کر لئے اور ایک مستقل فرقہ کی بنیاد پڑ گئی۔
اسی تحریک کے ظہور اور ارتقاء اس کے مزاج ونظام، اس کے نتائج واثرات اور اس کی دینی وتاریخی حیثیت پر ہم آئندہ صفحات میں تفصیل سے گفتگو کریں گے۔
فصل دوم … مرزاغلام احمد قادیانی۱؎
نسب اور خاندان مرزاقادیانی کا نسبی تعلق مغل قوم اور اس کی خاص شاخ برلاس سے ہے۔ کتاب البریہ کے حاشیہ پر لکھتے ہیں: ’’ہماری قوم مغل برلاس ہے۔‘‘
(کتاب البریہ ص۱۴۴حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۶۲)
لیکن کچھ عرصہ کے بعد ان کو بذریعہ الہام معلوم ہوا کہ وہ ایرانی النسل ہیں۔
۱؎ مرزاقادیانی کے حالات کے سلسلہ میں ہم نے خود مرزاقادیانی کے بیانات وتصریحات اور ان کی تحریروں پر اکتفاء کی ہے۔ اس کے بعد ان کے حالات زندگی کے سلسلہ میں اس کتاب کا سب سے بڑا ماخذ ان کے صاحبزادے مرزابشیراحمد کی تصنیف سیرۃ المہدی اور قادیانی جماعت کی دوسری مستند کتابیں ہیں۔