۳… ’’جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کی امت میں صرف محدثیت ہی جاری نہیں بلکہ اس سے اوپر نبوت کا بھی سلسلہ جاری ہے۔ پس یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے اور جب کہ نبوت کا دروازہ علاوہ محدثیت کے امت محمدیہ میں کھلا ثابت ہوگیا تو یہ بھی ثابت ہوگیا کہ مسیح موعود (یعنی مرزاقادیانی) بھی نبی اﷲ تھے۔‘‘ (حقیقت النبوۃ ص۲۲۸،۲۲۹)
ناظرین! ہم اپنے مضمون کو زیادہ طول دینا نہیں چاہتے۔ وقت کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے چند ایک حوالہ جات مرزاقادیانی کی کتابوں سے متعلقہ ختم نبوت جو کہ ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ پیش کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ مرزاقادیانی ایک طرف تو حضورﷺ کی ختم نبوت کے قائل ہیں اور دوسری طرف اجرائے نبوت کے حامی۔
ایک طرف حضورﷺ کی نبوت قیامت تک رہنے کے قائل اور تمام قسم کی نبوتوں کے دروازے بند سمجھتے ہیں اور دوسری طرف نبوت کا دروازہ قیامت کھلا رہنے کے حامی ہیں۔ ایک طرف حضورﷺ کی ختم نبوت کا اقرار کرتے ہیں اور دوسری طرف خود دعویٰ نبوت ورسالت کا کر کے نبی بن بیٹھے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ!
غرض کہ مرزاقادیانی کی یہ تمام تحریریں جو ہم نے اپنے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ میں پیش کی ہیں۔ ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ اب ہم متضاد تحریروں کے متعلق مرزاقادیانی کا اپنا دیا ہوا فیصلہ آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ جس کی کلام میں تناقض ہو۔ اس کے متعلق مرزاقادیانی کیا فرماتے ہیں:
۱… ’’اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس کی حالت ہے جو کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہو۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۸۴، خزائن ج۲۲ ص۱۹۱)
۲… ’’کسی سچیارہ یا عقلمند یا قائم الحواس کی کلام میں تناقض نہیں ہوتا۔‘‘
(ست بچن ص۲۹، خزائن ج۱۰ ص۱۴۲)۳… ’’جس کی کلام میں تناقض ہو وہ پاگل، جاہل، منافق خوشامدی ہوتا ہے۔‘‘
(ست بچن ص۲۹، خزائن ج۱۰ ص۱۴۲)
۴… ’’جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص۱۱۱،۱۱۲، خزائن ج۲۱ ص۲۷۵)
۵… ’’ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں۔ ایسے طریق سے انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔‘‘ (ست بچن ص۳۱، خزائن ج۱۰ ص۱۴۳)
۶… ’’تناسخ کا قائل ہونا اس شخص کا کام ہے جو اپنی کلام میں تناقض رکھتا ہو۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۱۱،۱۱۲، خزائن ج۲۱ ص۲۷۵)
۷… ’’کیونکہ بزرگوں کے کلام میں تناقض نہیں۔ ہم نے بہت دیکھا ہے۔‘‘
(ست بچن ص۲۹، خزائن ج۱۰ ص۱۴۱)
۸… ’’پھر تناقض کا قائل ہونا اس شخص کا کام ہے جو پرلے درجے کا جاہل ہو۔‘‘
(ست بچن ص۲۸، خزائن ج۱۰ ص۱۴۱)
۹… ’’مگر ظاہر ہے کہ کسی سچیارہ اور عقلمند اور صاف دل انسان کے کلام میں ہرگز تناقص نہیں ہوا۔ ہاں اگر کوئی پاگل یا مجنون یا ایسا منافق ہو جو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو۔ اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔‘‘ (ست بچن ص۲۸، خزائن ج۱۰ ص۱۴۱)
خلاصہ: تحریرات مرزاقادیانی یہ نکلا کہ جس کی کلام میں تناقض ہو وہ شخص جاہل، منافق، پاگل، مخبوط الحواس، مجنون، خوشامدی، جھوٹا، نہ عقلمند، نہ سچیارہ، نہ بزرگ، نہ صاف دل بلکہ تناسخ کا قائل ہوتا ہے۔
حضرات! ہم میاں بشیرالدین محمود خلیفہ ثانی مرزاغلام احمد قادیانی سے یہ فتویٰ پوچھتے ہیں کہ جب ہم نے مرزاقادیانی کے متضاد اعتقاد متعلقہ رسالہ ختم نبوت میں جمع کر کے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ مرزاقادیانی ایک طرف ختم نبوت کے قائل، دوسری طرف اجرائے نبوت کے حامی، ایک طرف ختم نبوت کے منکر کو کافر، بے دین وغیرہ تصور کرتے ہیں اور دوسری طرف خود ختم نبوت کے منکر ہوکر دعویٰ دار نبوت بن جاتے ہیں۔ ایک طرف حضورﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کا کرنے والے کو کافر، کاذب، لعنتی وغیرہ تصور کرتے ہیں اور دوسری طرف خود نبوت ورسالت کا