کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے۔ کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں۔‘‘ (انوار خلافت ص۶۵)۳… ’’جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کی امت میں صرف محدثیت ہی جاری نہیں بلکہ اس سے اوپر نبوت کا بھی سلسلہ جاری ہے۔ پس یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے اور جب کہ نبوت کا دروازہ علاوہ محدثیت کے امت محمدیہ میں کھلا ثابت ہوگیا تو یہ بھی ثابت ہوگیا کہ مسیح موعود (یعنی مرزاقادیانی) بھی نبی اﷲ تھے۔‘‘ (حقیقت النبوۃ ص۲۲۸،۲۲۹)
ناظرین! ہم اپنے مضمون کو زیادہ طول دینا نہیں چاہتے۔ وقت کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے چند ایک حوالہ جات مرزاقادیانی کی کتابوں سے متعلقہ ختم نبوت جو کہ ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ پیش کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ مرزاقادیانی ایک طرف تو حضورﷺ کی ختم نبوت کے قائل ہیں اور دوسری طرف اجرائے نبوت کے حامی۔
ایک طرف حضورﷺ کی نبوت قیامت تک رہنے کے قائل اور تمام قسم کی نبوتوں کے دروازے بند سمجھتے ہیں اور دوسری طرف نبوت کا دروازہ قیامت کھلا رہنے کے حامی ہیں۔ ایک طرف حضورﷺ کی ختم نبوت کا اقرار کرتے ہیں اور دوسری طرف خود دعویٰ نبوت ورسالت کا کر کے نبی بن بیٹھے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ!
غرض کہ مرزاقادیانی کی یہ تمام تحریریں جو ہم نے اپنے رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ میں پیش کی ہیں۔ ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ اب ہم متضاد تحریروں کے متعلق مرزاقادیانی کا اپنا دیا ہوا فیصلہ آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ جس کی کلام میں تناقض ہو۔ اس کے متعلق مرزاقادیانی کیا فرماتے ہیں:
۱… ’’اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس کی حالت ہے جو کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہو۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۸۴، خزائن ج۲۲ ص۱۹۱)
۲… ’’کسی سچیارہ یا عقلمند یا قائم الحواس کی کلام میں تناقض نہیں ہوتا۔‘‘
(ست بچن ص۲۹، خزائن ج۱۰ ص۱۴۲)