ہوں۔ آپؐ کی مہر سے نبی بنتے رہیں گے۔ وحی رسالت جاری ہے۔ جبرائیل میرے پر وحی نبوت ورسالت لاتا رہا۔ مجھے اپنی وحی پر قران، توریت، زبور اور انجیل کی طرح یقین کامل ہے۔ میں نبی ورسول ہوں۔ میرے نہ ماننے والا کافر ہے۔ اگر میں اپنی نبوت کا انکار کروں تو میں گنہگار ہوں گا۔ کیونکہ خدا نے میرا نام نبی رکھا۔ میرے دعویٰ نبوت کے انکار کی وجہ سے دنیا پر طرح طرح کے عذاب اﷲ تعالیٰ نے بھیجے۔ میں صاحب شریعت نبی ہوں۔
حضرات! تصویر کے دوسرے رخ کا بھی آپ نے ملاحظہ فرمالیا کہ مرزاقادیانی نے حضور پرنور حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی ختم نبوت کا اقرار کرتے ہوئے جو عقائد باب نمبر۱ میں پیش کئے۔ اب باب نمبر۲ میں ان سب سے بے نیاز ہوکر کس طرح ان کے متضاد بیان دے کر اجرائے نبوت کر کے خود دعویٰ نبوت ورسالت باشریعت کا کیا ہے اور اپنے نہ ماننے والے کو کافر کا لقب عطاء کر کے خارج از اسلام قرار دیا ہے۔
اب ناظرین کرام! خود اندازہ لگالیں کہ مرزائیوں کا یہ کہنا کہ مرزاقادیانی نے نہ تو دعویٰ نبوت ورسالت کا کیا اور نہ ہم ان کو نبی ورسول مانتے ہیں۔ بلکہ ہم ان کو صرف ایک بزرگ تصور کرتے ہیں۔ یہ کہاں تک درست ہے اور ہمارا رسالہ ’’ختم نبوت‘‘ پڑھ کر ان کے خاتم النبیین نمبر ۲۷؍فروری ۱۹۵۲ء مندرجہ اخبار الفضل کا اندازہ لگائیں کہ انہوں نے جو کچھ اس میں لکھا ہے۔ اس میں کہاں تک صداقت ہے۔
اب ہم اس کے بعد مرزاقادیانی کے دعویٰ نبوت ورسالت کی تصدیق میں چند ایک حوالہ جات میاں مرزابشیرالدین محمود خلیفہ ثانی قادیانی کے ان کی اپنی تصنیفات سے پیش کرتے ہیں۔ جن میں کہ انہوں نے مرزاقادیانی کی نبوت کا صاف طور پر اقرار کیا ہوا ہے۔ ملاحظہ ہو:
کلام محمود
۱… ’’انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے۔ ان کا یہ سمجھنا خدائے تعالیٰ کی قدرت کو ہی نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی ہوں گے۔‘‘
(انوار خلافت ص۶۲)
۲… ’’اگر میری گردن کی دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ