۔ پس اس تعریف کی رو سے ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۶،۷، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)
سوال نمبر:۳۳…مرزاقادیانی! جو خدا کا کلام آپ پر نازل ہوا وہ کتنا ہوگا؟
جواب مرزا
’’خدا کا کلام اس قدر مجھ پر نازل ہوا کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جز سے کم نہ ہوگا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۷)
لیجئے حضرات! خلاصہ کلام مرزا یہ نکلا کہ شریعت امرونہی کا نام ہے اور میری وحی میں بھی امر ونہی پائے جاتے ہیں۔ اس لئے میں بھی صاحب شریعت ہوں۔ دیگر انبیاء صاحب شریعت کے انکار کی طرح میرا انکار بھی کفر میں داخل ہے۔
لہٰذا اب ہم مرزاقادیانی کا کھلے طور پر دعویٰ نبوت ورسالت کا کرنا ناظرین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ذرا اس کا بھی ملاحظہ ہو۔
دعویٰ نبوت ورسالت مرزا
۱… ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘ (ملفوظات احمدیہ ج۱۰ ص۱۲۷)
۲… ’’میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔ اگر میں اس سے انکار کروں تو میراگناہ ہوگا۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک جو اس دنیا سے گذر جاؤں۔‘‘
(خط مرزا بنام اخبار عام لاہور مورخہ ۲۳؍مئی ۱۹۰۸ئ، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۹۷) نوٹ: حضرات! یہ خط مرزاقادیانی نے اپنے مرنے سے صرف تین روز پہلے اخبار عام لاہور کو شائع کرنے کے لئے بھیجا جو کہ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کے پرچہ میں شائع ہوا۔
خلاصہ تحریرات مرزاقادیانی یہ نکلا کہ میں محدث ہوں اور محدث بھی نبی اور رسول ہوتا ہے۔ میں امام زماں ہوں۔ امام الزماں میں نبی، رسول، محدث، مجدد سب داخل ہیں۔ حضورﷺ کے بعد آپؐ کے فیض سے حاصل ہونے والی نبوت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ آپؐ خاتم النیین اس طرح ہیں کہ آپؐ کے بعد نبوت تامہ کا دروازہ بند ہے۔ باقی نبوتیں جاری ہیں۔ میں امتی نبی، فیضی نبی، ناقص نبی، اطاعتی نبی، اعزازی نبی، ظلی نبی، بروزی نبی، غیرتشریعی نبی ورسول