سوال نمبر:۳۰…مرزاقادیانی! آپ کا مقصد یہ ہے کہ آپ بالتشریع نبی ورسول نہیں اور وہ نبوت ورسالت حضورﷺ پر ختم ہو چکی ہے اور آپ ظلی، بروزی، فیضی، ناقص، استعارہ، اعزازی اور امتی نبی بغیر شریعت کے ہیں۔ مگر یہ تو بتا دیجئے کہ اگر کوئی آپ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کرے تو پھر اس کے واسطے کیا حکم ہے؟
جواب مرزا
۱… ’’خداتعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔‘‘
(مکتوب بنام ڈاکٹر عبدالحکیم، تذکرہ ص۶۰۷)
۲… ’’شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے۔ اس لئے ہم منکر کو مؤمن نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مواخذہ سے بری ہے اور کافر کو منکر ہی کہتے ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)
سوال نمبر:۳۱…مرزاقادیانی! یہ تو فرمائیے کہ کفر کس قسم کے نبی کے دعوے کے انکار سے لازم آتا ہے؟جواب مرزا
’’یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کا انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں۔ گو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔‘‘
(تریاق القلوب ص۱۳۰، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲)
سوال نمبر:۳۲…مرزاقادیانی! یہ تو آپ نے بتادیا کہ جو شخص نبی صاحب شریعت جدیدہ کے دعویٰ کا انکار کرنے والا ہے وہ کافر ہے۔ مگر آپ تو صاحب شریعت جدید نبی ورسول نہیں تو پھر آپ کے دعوے کے انکار سے کیسے کفر لازم آگیا؟ کیونکہ آپ تو ظلی، بروزی وغیرہ ہیں۔
جواب مرزا
’’ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنے وحی کے ذریعے سے چند امرونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہوگیا۔