جواب مرزا
۱… ’’ماسوائے اس کے ہر ایک قوم کو معلوم ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے طوفان نے ان لوگوں کو بھی ہلاک کر دیا۔ جن لوگوں کو نوح علیہ السلام کے نام کی خبر بھی نہیں تھی۔ پس اصل بات یہ ہے۔ ’’ما کنا معزبین حتیٰ نبعث رسولاً‘‘ خدائے تعالیٰ دنیا میں عذاب نازل نہیں فرماتا۔ جب تک کہ پہلے کوئی رسول نہیں بھیجتا۔ یہی سنت اﷲ ہے اور ظاہر ہے کہ یورپ اور امریکہ میں کوئی رسول پیدا نہیں ہوا۔ پس ان پر جو عذاب نازل ہوا۔ صرف میرے دعویٰ کے بعد ہوا۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۵۳، خزائن ج۲۲ ص۴۸۶)
۲… ’’مگر یہ زلزلے ان کو ہلاک کرنے والے میری سچائی کا ایک نشان تھے۔ کیونکہ قدیم سنت اﷲ کے موافق شریر لوگ کسی کے آنے کے وقت ہلاک کئے جاتے ہیں۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۶۱، خزائن ج۲۲ ص۱۶۵)
سوال نمبر:۲۹…مرزاقادیانی! آپ نے یہ تو بتادیا کہ آپ نبی اور رسول ہیں۔ مگر یہ تو بتائیے کہ یہ نبوت ورسالت آپ کو کس طرح سے ملی۔ جب کہ بقول آپ کے حقیقی اور غیرحقیقی نبوتوں کے تمام دروازے بند ہیں تو آپ مقام نبوت پر کس طرح اور کس راستے سے پہنچ گئے۔ کیونکہ یہ عقیدہ خاتم النبیین کے خلاف ہے۔
جواب مرزا
۱… ’’اب یہ اعتراض کرنا کہ یہ عقیدہ خاتم النبیین کے خلاف ہے۔ بالکل غلط ہوگا۔ کیونکہ ’’ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین‘‘ میں ایک پیشین گوئی ہے کہ ہندو، یہودی، عیسائی، یارسمی مسلمان کے لئے پیشین گوئیوں کے دروازے بند کئے گئے ہیں اور نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئی ہیں۔ مگر سیرت صدیقی کی ایک کھڑکی کھلی ہوئی ہے۔ یعنی فنا فی الرسول کی۔ پس جو اس کھڑکی سے اندر آتا ہے۔ اس پر نبوت محمدی کی چادر پہنائی جاتی ہے۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷)
۲… ’’یہ شرف مجھے محض آنحضرتﷺ کی پیروی سے حاصل ہوا ہے۔ اگر میں آنحضرتﷺ کی امت میں نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی میں کبھی یہ شرف مکالمہ مخاطبہ ہر گز نہ پاتا۔ کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا کوئی نبی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہوسکتا ہے۔‘‘
(تجلیات الٰہیہ ص۱۹،۲۰، خزائن ج۲۰ ص۴۱۱،۴۱۲)