اصلاح کے لئے دنیا میں بھیجا گیا ہوں اور میرا قدم عیسیٰ علیہ السلام کے قدم پر ہے۔‘‘
(اربعین نمبر۱ ص۱۰، خزائن ج۱۷ ص۳۴۳،۳۴۴)
سوال نمبر:۲۶…مرزاقادیانی! آپ اپنی نبوت ورسالت پرکوئی دلیل تو پیش کریں۔ جس سے کہ آپ کی نبوت یا رسالت ثابت ہو۔
جواب مرزا۱… ’’تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ بہرحال جب تک طاعون دنیا میں قائم رہے۔ گوستر برس رہے۔ قادیان کو اس خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے ایک نشان ہے۔‘‘
(دافع البلاء ص۱۰، خزائن ج۱۸ ص۲۳۰)
۲… ’’اگر مجھ سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے تو نئی بات نہیں۔ دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا۔ جس سے ٹھٹھا نہیں کیاگیا۔ اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’یاحسرتاً علی العباد مایایتہم من الرسول الا کانوا بہ یستہزؤن‘‘ یعنی بندوں پر افسوس کہ کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا۔ جس سے انہوں نے ٹھٹھا نہیں کیا۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۳۱۸،۳۱۹، خزائن ج۲۳ ص۳۳۴)
۳… ’’اجتہادی غلطی میں سب انبیاء میرے شریک ہیں۔‘‘
(لیکچر سیالکوٹ ص۵۶، خزائن ج۲۰ ص۲۴۵)
۴… ’’یہ ہیں اعتراض یہودیوں اور ملحدوں کے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیوں پر کرتے تھے اور عیسائی آنحضرتﷺ پر کرتے ہیں۔ پس ضرور تھا کہ مجھ پر بھی کئے جاتے۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۸، خزائن ج۲۲ ص۵۸۷)
سوال نمبر:۲۷…مرزاقادیانی! آپ اپنے اقوال کے مطابق تو خدا کے سابقہ پیغمبروں میں اپنے آپ کو شمار کر رہے ہیں۔ مگر یہ تو بتائیے کہ آپ کی نبوت کی تصدیق کون کرے گا؟
جواب مرزا
’’یا نبی اﷲ کنت اعرفک‘‘ اور زمین کہے گی کہ اے خدا کے نبی میں تجھے نہیں شناخت کرتی تھی۔
سوال نمبر:۲۸…مرزاقادیانی! یہ جو دنیا میں طاعون، زلزلے اور طرح طرح کی مصیبتیں نازل ہورہی ہیں۔ کچھ ان کے متعلق بھی روشنی ڈالئے۔