جواب مرزا ’’بعض الہامات کے وقت اگرچہ فرشتہ نظر نہیں آتا۔ تاہم الفاظ کے معنی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلام فرشتے کے ذریعے سے نازل ہوا ہے۔ مثلاً الہامات میں ایسے الفاظ ’’قال ربک‘‘ اور ما تتنزل الا بامر ربک‘‘ (الحکم ج۱۱ نمبر۴۳، ص۱۳)
سوال نمبر:۲۳…مرزاقادیانی! تو گویا آپ کی نبوت بذریعہ وحی ہوئی۔
جواب مرزا
’’ہماری تمام بحث وحی نبوت میں ہے۔ جس کی نسبت یہ ضروری ہے کہ بعض کلمات پیش کر کے یہ کہا جائے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ہمارے پر نازل ہوا۔‘‘
(تتمہ اربعین نمبر۴ ص۱۳، خزائن ج۱۷ ص۴۷۷)
سوال نمبر:۲۴…مرزاقادیانی! اﷲتعالیٰ نے آپ کو کس قوم کی طرف بھیجا ہے؟
جواب مرزا
’’مجھ کو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ایک خدمت سپرد کی گئی ہے۔ اس لئے کہ ہمارے آقا اور مخدوم تمام دنیا کے لئے آئے تھے تو اس عظیم الشان خدمت کے لحاظ سے مجھے وہ قوتیں اور طاقتیں بھی دی گئی ہیں۔ جو اس بوجھ کے اٹھانے کے لئے ضروری تھیں اور وہ معارف اور نشان بھی دئیے گئے ہیں کہ جن کا دیا جانا اتمام حجت کے لئے مناسب تھا۔‘‘
سوال نمبر:۲۵…مرزاقادیانی! آپ کی بعثت کا مقصد؟
جواب مرزا
۱… ’’جیسے مسیح بن مریم نے انجیل میں توریت کا صحیح خلاصہ اور مغز اصلی پیش کیا تھا۔ اسی کام کے لئے یہ عاجز مامور ہے۔ تاغافلوں کے سمجھانے کے لئے قرآن شریف کی اصلی تعلیم پیش کی جائے۔ مسیح صرف اسی کام کے لئے آیا تھا کہ توریت کے احکام شدومد کے ساتھ ظاہر کرے۔ ایسا ہی یہ عاجز بھی اسی کام کے لئے بھیجا گیا ہے۔ تاقرآن کے احکام بہ وضاحت بیان کر دیوے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ مسیح موسیٰ کو دیاگیا تھا اور یہ مسیح مثیل موسیٰ کو دیاگیا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۲، خزائن ج۳ ص۱۰۳)
۲… ’’میں بہ کمال ادب وانکسار حضرات علمائے مسلمانان وعلمائے عیسایاں وپنڈتان ہندواں وآریاں یہ اشتہار بھیجتا ہوں کہ میں اخلاقی واعتقادی وایمانی کمزوریوں اور غلطیوں کی