مہر دی۔ جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ کو پیروی کمالات نبوت بخشی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ اور کسی نبی کو نہیں ملی۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۹۷، خزائن ج۲۲ ص۱۰۰)
۳… ’’آنحضرتﷺ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا گیا۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد براہ راست فیض نبوت منقطع ہوگئے اور اب کمال نبوت اس شخص کو ملے گا۔ جو اپنے اعمال پر اتباع نبوی کی مہر رکھتا ہو۔‘‘ (ریویو مباحثہ ص۷۷، خزائن ج۱۹ ص۲۱۴)
سوال نمبر:۱۶…مرزاقادیانی! آپ باربار فرمارہے ہیںکہ آپؐ خاتم النبیین ہیں۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ جو یا شریعت ہو، مگروہی جو امتی ہو وہ نبی ہوسکتا ہے۔ تیرہ سو سال میں کوئی اور بھی شخص امتی نبی گذرا ہے؟
جواب مرزا
’’جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال گذر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیاگیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا ہوں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)
سوال نمبر:۱۷…مرزاقادیانی! تو گویا آپ یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ہم نبی ہیں۔ مگر یہ تو بتائیے کہ قرآن مجید کی رو سے نبی کا آنا جائز ہے؟
جواب مرزا
۱… ’’خداتعالیٰ نے میری وحی میں باربار امتی کر کے بھی پکارا اور نبی کر کے بھی پکارا ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۸۴، خزائن ج۲۱ ص۳۵۵)
۲… ’’اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔ اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۴۹،۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۳،۱۵۴)سوال نمبر:۱۸…مرزاقادیانی! اگر آپ نبی ہیں تو عوام کو تسلی تشفی دلانے کے لئے آپ کے پاس کیا ثبوت ہے؟