سوال نمبر:۱۳…مرزاقادیانی! آپ نے یہ کہا ہے کہ میں امتی نبی اعزازی ہوں جو کہ مجھ کو اتباع سے حاصل ہوئی۔ اس کی مصلحت بھی بیان فرمائیے؟
جواب مرزا
۱… ’’ہمارا نبیﷺ اس درجے کا نبی ہے اور اس کی امت کا ایک فرد نبی ہوسکتا ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۸۴، خزائن ج۲۱ ص۳۵۵)
۲… ’’شریعت والا کوئی نبی نہیں۔ بغیر شریعت کے نبی ہوسکتا ہے۔ مگر وہ جو پہلے امتی ہو۔‘‘
(تجلیات الٰہیہ ص۲۰، خزائن ج۲۰ ص۴۱۲)
سوال نمبر:۱۴…مرزاقادیانی! کسی امتی کو نبی قرار دینے سے کوئی ہرج تو واقع نہیں ہوتا اور شریعت کا لانا اس کے لئے ضروی ہے یا نہیں؟
جواب مرزا
۱… ’’نبی کے حقیقی معنی پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔ پس ایک امتی کو نبی قرار دینے سے کوئی مخدور لازم نہیں آتا۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۳۸، خزائن ج۲۱ ص۳۰۶)
سوال نمبر:۱۵…مرزاقادیانی! یہ تو بتائیے کہ اﷲتعالیٰ نے جو حضورﷺ کو خاتم النبیین فرمایا ہے تو اس کے کیا معنی ہیں کہ حضورﷺ کے بعد امتی نبی، فیضی نبی، ظلی نبی، بروزی نبی، اعزازی نبی اور غیرتشریعی نبی ہوسکتا ہے۔ ذرا اس معمہ کو بھی حل کیجئے۔
جواب مرزا۱… ’’وہ صاحب خاتم ہے بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا اور اس کی امت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ کا دروازہ کبھی بند نہیں اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے۔ جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۲۸، خزائن ج۲۲ ص۲۹،۳۰)
۲… ’’اﷲ جل شانہ نے آنحضرتﷺ کو خاتم بنایا۔ یعنی آپﷺ کو اضافہ کمال کے لئے